.

غزہ پراسرائیلی جارحیت:پاکستان میں جمعہ کو یومِ سوگ

انسانی امداد پہنچانے کے لیے غزہ کی ناکا بندی فوری ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی فوجی جارحیت کا شکار فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے (آج) جمعہ کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں جمعرات کو جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ''وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی اپیل پر جنگ میں تباہ حال غزہ کے مکینوں کے لیے دس لاکھ ڈالرز کی رقم عطیہ کے طور پر دینے کی بھی ہدایت کی ہے''۔

قبل ازیں پاکستان نے غزہ کی ناکا بندی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اسرائیلی جارحیت سے متاثر ہونے والے فلسطینیوں کو انسانی امداد بہم پہنچائی جاسکے۔پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ''غزہ کے مکینوں کو انسانی امداد پہنچانے کے لیے اسرائیلی محاصرے کا خاتمہ ضروری ہے ۔جب تک یہ محاصرہ ختم نہیں ہوتا،ہم کوئی امداد نہیں بھیج سکتے''۔

اںھوں نے بتایا کہ پاکستان نے بدھ کو پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اس کے بعد جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

اعزاز چودھری نے کہا کہ ''غزہ پر اسرائیل کے فوجی حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ ،غیر مسلح اور غیر جنگجو فلسطینی مارے جارہے ہیں۔ہم نے گذشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بالکل واضح اور غیر مبہم انداز میں بات کی ہے اور جنگی کارروائیاں بند کرنے اور امن بات چیت شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے''۔

انھوں نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ ''پاکستان مسلم ،عرب اور ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں بری طرح زخمی افراد اور پناہ گزین کیمپوں میں پھنسے ہوئے فلسطینیوں تک انسانی رسائی کے لیے کوششیں کررہا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،اس کی سرحدیں کھولیں جائیں اور فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے''۔

پاکستان نے اپنے ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے حملے کی مذمت کی تھی اور ان انتیس ممالک نے ایک قرار داد کی منظوری دی تھی جس کے تحت کونسل نے غزہ میں اسرائیل پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی بین الاقوامی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

انسانی حقوق کونسل نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا بے مہابا اور غیر متناسب استعمال کیا ہے اور ان کے خلاف غیر امتیازی حملے کیے ہیں،انھیں اجتماعی سزا دینے کے لیے شہری علاقوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں ساڑھے سات سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں پونے دو سو بچے اور دوتہائی عام شہری ہیں۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نیوی پلے نے کہا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔