.

غزہ پراسرائیلی جارحیت کے خلاف یومِ سوگ، مظاہرے

سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا،اسرائیل کے فوجی مظالم کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی اپیل پر غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی فوجی جارحیت کا شکار فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے جمعہ کو یوم سوگ منایا گیا ہے اور ملک بھر میں مختلف دینی وسیاسی جماعتوں نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کے لیے ریلیاں نکالی ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا ہے۔پاکستان کے صدر ممنون حسین نے ایک بیان میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فورسز کے بے گناہ فلسطینیوں پر سفاکانہ مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں خراب موسم کے باوجود نمازجمعہ کے بعد ہزاروں پاکستانیوں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔

مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیلی مظالم کا فوری نوٹس لے، اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہی ہے جس سے سیکڑوں کی تعداد میں بچے ،بوڑھے اور خواتین شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔واضح رہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے رمضان المبارک کے جمعتہ الوداع کے موقع پر فلسطین میں اسرائیلی مظالم کے خلاف یوم سوگ منانے کا اعلان کیا تھا۔

جماعت اسلامی اورملک کی دوسری دینی وسیاسی جماعتوں کے زیراہتمام اسلام آباد ،کراچی ،لاہور، پشاور اور دوسرے شہروں میں نمازجمعہ کے بعد اسرائیلی فوج کے غزہ میں جنگی مظالم کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں اسرائیلی فوج کی غزہ پر مسلط کردہ جنگ کی مذمت کی گئی تھی۔مظاہرین اسرائیل کے خلاف سخت نعرے بازی کررہے تھے۔

پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام بھی ملک بھر میں ''یوم یک جہتی فلسطین''منایا گیا۔کونسل کے زیراہتمام لاہور میں مظاہرے کی قیادت علامہ طاہراشرفی نے کی۔انھوں نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستانی پرچم سرنگوں کرنے کا فیصلہ پوری قوم کی آواز تھی۔انھوں نے کہا کہ اس وقت عالم اسلام کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے اور مسلم حکمران غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو رکوانے کے بجائے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے غزہ کی ناکا بندی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اسرائیلی جارحیت سے متاثر ہونے والے فلسطینیوں کو انسانی امداد بہم پہنچائی جاسکے۔پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ''غزہ کے مکینوں کو انسانی امداد پہنچانے کے لیے اسرائیلی محاصرے کا خاتمہ ضروری ہے ۔جب تک یہ محاصرہ ختم نہیں ہوتا،ہم کوئی امداد نہیں بھیج سکتے''۔

انھوں نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ ''پاکستان مسلم ،عرب اور ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں بری طرح زخمی افراد اور پناہ گزین کیمپوں میں پھنسے ہوئے فلسطینیوں تک انسانی رسائی کے لیے کوششیں کررہا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،اس کی سرحدیں کھولیں جائیں اور فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے''۔

پاکستان نے اپنے ہم خیال انتیس ممالک کے ساتھ مل کر بدھ کو جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے حملے کی مذمت کے لیے ایک قرار داد منظورکی تھی۔اس کے تحت کونسل نے غزہ میں اسرائیل پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی بین الاقوامی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔