.

تحریکِ انصاف کو اسلام آباد میں مارچ کی اجازت سے انکار

عمران خان اور طاہر القادری کی جماعتیں وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کے لیے پُرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹِی آئی) کو باضابطہ طور پر آزادی مارچ کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عاید ہے۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر مجاہد شیردل نے پی ٹی آئی کو اس سلسلے میں سوموار کو باضابطہ طور پر ایک خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ''عام ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق پی ٹی آئی کی آئی سی ٹی کی حدود میں 14 اگست 2014ء کو ریلی کے انعقاد کے حوالے سے یہ واضح کیا جارہا ہے کہ سکیورٹی کی خراب صورت حال کے پیش نظر اسلام آباد کے وفاقی علاقے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 نافذ ہے اور اس کے تحت ہر طرح کے عوامی اجتماعات اور ریلیوں پر پابندی عاید ہے''۔

خط میں کہا گیا ہے کہ'' کسی عوامی اجتماع کے انعقاد سے قبل مناسب سکیورٹی انتظامات اور دفعہ 144 میں نرمی کے لیے آئی سی ٹی کے ضلعی میجسٹریٹ سے اجازت لینا ضروری ہے مگر اب تک نہ تو آئی سی ٹی کی انتظامیہ کو پی ٹی آئی کی جانب سے ایسی کوئی درخواست موصول ہوئی ہے اور نہ ہی اس نے قانون کے تحت کسی عوامی اجتماع کے انعقاد کی اجازت دی ہے''۔

خط میں پی ٹی آئی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ریلی کے انعقاد کے سلسلہ میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرے کیونکہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب کے تناظر میں سکیورٹی کی ابتر صورت حال کے پیش نظر شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمے داری ہے۔اس کے علاوہ سکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات کو یقینی بنانا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے جلسے جلوسوں پر پابندی کے علاوہ عام شہریوں پر آتشیں ہتھیار اٹھانے ،نماز کے لیے اذان اور جمعہ کے خطبات کے سوا لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال ،پٹاخوں کا سامان رکھنے اور ان کے استعمال اور دستی پرچوں ،پمفلٹوں کی تقسیم اور دیواروں پر پوسٹر لگانے اور وال چاکنگ پر بھی پابندی عاید کررکھی ہے۔

اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی اسی مضمون کا ایک خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں جلسے،جلوسوں اور ریلیوں کے انعقاد پر پابندی عاید ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ وہ قانونی پابندیوں کے باوجود آزادی مارچ کرے گی۔جماعت کے ایک سینیر رہ نما نعیم الحق کا کہنا ہے کہ کوئی بھی اس مارچ کو روک نہیں سکتا ہے۔انھوں نے الٹا ضلعی انتظامیہ کو لتاڑتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو ہمارے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے تھا اور اس کو کون سی چیز ہم سے یا ہمارے دفاتر سے رابطے سے روک رہی ہے۔

عمران خان نے پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کررکھا ہے اور گذشتہ روز عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہرالقادری نے بھی اپنے ہزاروں کارکنوں سمیت ان کے مارچ میں شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ دونوں لیڈر وزیراعظم میاں نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔وہ اپنے تئیں انقلاب برپا کرنے کے دعوے کررہے ہیں لیکن ان کا انقلابی ایجنڈا واضح نہیں ہے۔

درایں اثناء وزیراعظم میاں نواز شریف نے اسلام آباد میں ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ملک میں ان انقلابوں اور مارچوں کے پیچھے کون کارفرما ہے۔انھوں نے پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ''میں ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا لیکن ان کے لانگ مارچوں کے ایجنڈے پر ہنس ہی سکتا ہوں۔میں کنفیوژ ہوں کہ ان کو یہ ایجنڈا کس نے دیا ہے''۔

واضح رہے کہ حکومت سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے سیاسی ساتھیوں اور دوستوں کو موجودہ سیاسی افراتفری کی ذمے دار قرار دے رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اب مشرف کے ساتھی ان کی رہائی کے مطالبے کے یک نکتی ایجنڈے پر اکٹھے ہورہے ہیں اور وہ ملک کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کررہے ہیں۔