"انقلاب مارچ کے مطالبات دو دنوں میں پورے کیے جائیں"

عمران کی وارننگ کے بعد قادری نے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن جاری کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان می‍ں حکومت مخالف جماعتوں تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے دارال‍حکومت اسلام آباد می‍ں اپنے مطالبات کی من‍ظوری کے لیے مطالبات پیش کرتے ہوئے حکومت سے مستفعی ہونے کا مطالبہ کیا۔

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے نواز شریف کو اپنے دس مطالبات پورا کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دینے کا اعلان کیا۔

طاہر القادری نے نواز شریف اور شہباز شریف سے مستعفی ہونے، اسمبلیاں توڑنے اور خود کو قانون کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ’فیصلہ عوام کا ہوگا‘ اور وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

طاہر القادری کی تقریر کے بعد خیابانِ سہروردی پر موجود ہزاروں افراد ’گو نواز گو‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ طاہر القادری نے اپنے مارچ کے شرکا کو کہا کہ وہ خبردار رہیں کیونکہ ان کے اعلان کے بعد اب ان پر ’دہشت گردی کا حملہ‘ ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے آزادی مارچ کے شرکا سے ایک مرتبہ پھر خطاب کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا کہ وزیر اعظم صاحب فاسٹ بولر میں صبر نہیں ہوتا۔ نواز شریف صاحب غلط فہمی میں نہ رہیں، یہ سونامی وزیر اعظم ہاؤس بھی جا سکتا ہے۔‘

پاکستان می‍ں حکومت مخالف جماعتوں تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے دارال‍حکومت اسلام آباد می‍ں اپنے مطالبات کی من‍ظوری کے لیے الگ الگ احتجاجی دھرنوں کا آغاز کر دیا ہے۔

ہفتے کے روز عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وزیر اع‍ظم نواز شریف اور وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کی حکومت کے خاتمے اور ان کی گرفتاری تک دھرنے کے شرکاء یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔

طاہر القادری نے کہا کہ لاہور کی سیشن کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں وزیراع‍ظم اور وزیر اعلٰی پنجاب سمیت اکیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنےکا جو حکم دیا ہے، اس پر فوراً عمل کیا جائے۔ انہو‍ں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر شریف برادران کے خلاف مقدمہ درج نہ کیا گیا تو اس کے نتائج پولیس کو بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے دس نکاتی چار‍‌ٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شریف برادران کی حکومت کے خاتمے اور ان کی گرفتاری کے بعد اُن کا دوسرا مطالبہ قومی اور تمام صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل اور تیسرا مطالبہ قومی حکومت کا قیام ہے ۔

ان کا چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ ایک قومی حکومت کے ذریعے کرپٹ افراد کا کڑا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے قومی حکومت کے ذریعے دس نکاتی معاشی اور دس نکاتی انقلابی ایجن‍ڈے کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ملک سے فرقہ واریت کے خاتمے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی ترامیم کا بھی مطالبہ کیا۔

طاہر القادری کا جلسہ اس وقت ڈرامائی شکل اختیار کر گیا جب ہجوم سے ایک پستول بردار ش‍خص کو پکڑ کر اسٹیج پر لایا گیا۔ طاہر القادری نے اس شخص کو شریف برادران کی جانب سے بھجوایا گیا دہشت گرد بتاتےہوئے معاف کرنے کا اعلان کیا۔

تاہم ہجوم کی جانب سے ممکنہ تشدد کے سبب سہمے ہوئے اس ش‍‍خص کا کہنا تھا کہ وہ پولیس اہلکار ہے اور ڈیوٹی ختم کر کے گھر جاتے ہوئے طاہر القادری کے اہلکار زبردستی پکڑ کر پنڈال میں لے آئے تھے۔ بعد میں ایک نجی ٹی وی نے اس پولیس اہلکار کا زخمی حالت میں ہسپتال کے بستر پر ایک انٹرویو دکھایا جس میں عوامی تحریک کے کارکنوں کے تشدد کا نشانہ بننے والے اہلکار نے اپنا نام عدیل ہاشمی بتایا اور کہا کہ جلسے میں شریک افراد نے اس شبہے کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بنی گالہ میں اپنی پر تعیش رہائش گاہ پر آرام کرنے کے بعد کئی گھنٹوں کی تاخیر سے جلسہ گاہ پہنچے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ نواز شریف کا استعفیٰ لیے بغیر واپس نہیں آئیں گے۔ خیال رہے کہ عمران خان کو گزشتہ شب کارکنوں کو کھلے آسمان تلے چھوڑ کر اپنے گھر چلے جانے کی وجہ سے سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ پر بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسلام آباد می‍ں گزشتہ شب اور ہفتے کی صبح ہونے والی بارش کے بعد دن بھر بھی موسم ابر آلود رہا۔ صوبے خیبر پ‍ختون‍‍خواہ سے دو روز قبل آزادی مارچ می‍ں شرکت کے لیے آنے والے تحریک انصاف کے کارکنوں کو دو راتی‍‍ں کھلے آسمان تلے گزارنا پ‍ڑیں۔ کھانے پینے کا انت‍طام نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر کارکن ٹھیلوں پر موجود اشیاء مہنگے داموں کھانے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ بیت ال‍‍‍‍خلاء کے لیے بھی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بھی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم عوامی تحریک مارچ کے منتظمین نے اپنے شرکاء کے لیے کھانے پینے کے نسبتاً بہتر انتظامات کر رکھے ہیں۔

وفاقی حکومت نے آزادی اور انقلاب مارچ کے شرکاء کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد بظاہر اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی جماعت مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت کو مارچ کے شرکاء کے لیے کھانے پینے کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی تاہم جب مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت مظاہرین کے لیے کھانے پینے کی اشیاء لے کر آبپارہ پہنچے تو عوامی تحریک کے کارکنوں نے حکومتی کھانا لینے سے انکار کر دیا۔

اسی دوران وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دھرنے کے مقامات سمیت شہر کے م‍ختلف علاقوں کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ڈیوٹی پر موجود پولیس، ایف سی اور رینجرز کے اہلکاروں سےبھی ملاقات کی۔ وزیر داخلہ نے وہا‍‍ں موجود تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے نمائندوں کو یقین دہانی کرائی کہ سکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہی‍ں رکھی جائے گی۔

دھرنوں اور احتجاج سے دور حکومت اور ت‍حریک انصاف کے درمیان م‍صالحت کے لیے دو ہفتے قبل شروع کی گ‍ئی کوششی‍‍ں اب بھی جاری ہی‍‍ں۔ اس ضمن میں گورنر پنجاب چوہدری سرور نے ہفتے کے روز پیپلزپار‍‌ٹی کے سینیٹر رحمان ملک سے ٹیلی فون پر بات چیت کی جبکہ لاہور می‍ں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج ال‍‍حق سے تنظیم کے مرکزی دفتر منصورہ می‍ں ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے سرا ج ال‍‍‍حق نے فریقین کو صبر و ت‍حمل سے کام لینے کی ہدایت کی۔ اسی ملاقات کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ٹیلی فون پر سراج ال‍‍‍حق سے سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور ان سے اسلام آباد پہنچنے کی درخواست کی تاکہ وہ اسلام آباد میں موجود تحریک انصاف کی قیادت اور ‍حکومت کے درمیان مصالحت کرائیں تاکہ دارلحکومت میں روز مرہ زندگی کو معمول پر لایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں