.

اسلام آباد: ریڈ زون کی سکیورٹی فوج کے حوالے

عمران خان کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری کا بھی ریڈ زون کی جانب بڑھنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومتِ نے دارالحکومت اسلام آباد کے حساس علاقے ریڈزون کی سکیورٹی کی ذمے داری پاک آرمی کے سپرد کردی ہے۔حکومت نے یہ فیصلہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جانب سے اپنے اپنے ہزاروں کارکنوں سمیت ریڈ زون میں داخلے کے اعلان کے بعد کیا ہے۔

وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے منگل کی شام براہ راست نشر کی گئی ایک نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کے زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس مِیں فوج کو ریڈ زون کی سکیورٹی سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس اجلاس میں پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور دوسرے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

وزیرداخلہ نے بتایا کہ پاک آرمی کو اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع حساس تنصیبات ،عمارتوں اور غیر ملکی سفارت خانوں کے تحفظ کے لیے آئین کی دفعہ 245 اور دفعہ 131 کے تحت طلب کیا گیا ہے اور ایسا پاکستان کی اندرونی سلامتی کو برقرار رکھنے کے علاوہ بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لیے بھی کیا گیا ہے کیونکہ بعض سفارت کاروں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے کہ پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے لانگ مارچ اور اسلام آباد میں دھرنوں کے پیچھے پاک فوج کا ہاتھ ہے۔انھوں نے کہا:''میں مکمل ذمے داری کے ساتھ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان آرمی اس تمام کھیل کے پیچھے نہیں ہے''۔

چودھری نثار علی خان نے کہا کہ ''تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ریڈ زون سے دور رہنے کے اپنے وعدے کو ایفاء نہیں کررہے ہیں حالانکہ انھوں نے ایک ٹیکسٹ پیغام میں مجھے ذاتی طور پر یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے''۔

وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے عمران خان کی اس یقین دہانی پر انھیں اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ اور آب پارہ کے علاقے میں دھرنے کی اجازت دی تھی۔انھوں نے حکومت کی جانب سے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ دنیا میں کہیں بھی اس طرح لوگوں کو تشدد پر ابھار کر مسائل حل نہیں کیے جاتے ہیں اور مذاکرات کے ذریعے ہی کوئی حل نکالا جاتا ہے۔

ریڈزون پر چڑھائی؟

عمران خان نے منگل کی شب اپنی جماعت کے ہزاروں کارکنوں کے دھرنے سے خطاب میں ایک مرتبہ پھر ریڈ زون میں داخل ہونے کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ وہ کارکنوں کے دباؤ پر یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ سب سے آگے خود ہوں گے۔ان کی جماعت کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی کہا کہ وہ ریڈ زون میں داخل ہوکر پرامن احتجاج کریں گے اور شاہراہ دستور پر پارلیمنٹ کے سامنے ڈی چوک میں دھرنا دیں گے۔

وزیرداخلہ کی نیوزکانفرنس کے فوری بعد ہی عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے آب پارہ میں انقلاب مارچ کے شرکاء سے گرما گرم خطاب کیا ہے اور عمران خان کی تقلید میں انھوں نے بھی ریڈ زون میں داخل ہونے اور شاہراہ دستور پر پارلیمینٹ ہاؤس کی جانب پیش قدمی کا اعلان کردیا ہے۔

البتہ انھوں نے اپنے انقلابی اتحادی عمران خان کی طرح اپنے طور پر آگے بڑھنے کے بجائے یہ کہا ہے کہ وہ حکام کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد آگے بڑھیں گے۔انھوں نے سکیورٹی فورسز سے کہا کہ وہ کنٹینر ہٹا دیں اور انھیں پرامن طور پر آگے بڑھنے دیں۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے آج شام پانچ بجے عوامی پارلیمان کے انعقاد کا اعلان کررکھا تھا۔ اس عوامی پارلیمان میں انھوں نے اپنے جاں نثار کارکنوں کی اس گرمی میں احتجاجی دھرنے سے گلوخلاصی کے لیے کوئی اعلان تو نہیں کیا ہے۔البتہ انھوں نے اپنے پیروکاروں سے کہا ہے کہ وہ منظم رہیں ،تشدد کی راہ نہ اپنائیں۔انھوں نے ریڈ زون کی جانب بڑھنے کا یہ جواز پیش کیا کہ پہلے پاکستان مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرتی رہی ہیں۔اس لیے ہمیں بھی وہاں احتجاج کا حق حاصل ہے۔

علامہ صاحب اپنی اس اہم تقریر میں کارکنوں کو منظم رہنے اور انتقام لینے پر ہی اکساتے رہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ گوجرانوالہ میں ان کا ایک اور زخمی کارکن جان کی بازی ہار گیا ہے۔پھر انھوں نے اس عوامی اسمبلی سے پے درپے سوالات کیے اور ان سے پوچھا کہ ''اگرہم ان شہداء کے خون کا انتقام نہیں لیتے ہیں تو کیا تم واپس جاؤ گے؟''۔اس کے جواب میں مجمع نے پرزور آواز میں کہا:''نہیں''۔

مجمعے سے ان کا اگلا سوال تھا:''کیا وہ ریڈ زون میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کو ترجیح دیں گے''۔شرکاء کا جواب تھا:''ہاں''۔''کیا حکومت کو رہنا چاہیے یا جانا چاہیے؟''انھوں نے اگلا سوال داغا۔اس کے جواب میں دھرنے کے شرکاء نے بآواز بلند نعرے بازی شروع کردی:''گو نواز گو''۔پھر علامہ طاہرالقادری نے اپنا یہ مطالبہ دُہرایا کہ شریف برادران (وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف) کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں عوامی تحریک کے کارکنوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا جائے۔

پولیس کی اضافی نفری

واضح رہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے آزادی اور انقلاب مارچ سے نمٹنے کے لیے چالیس ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کررکھے ہیں۔ان میں پاک آرمی ،رینجرز اور پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔حکومت نے ریڈزون میں سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے صوبہ پنجاب اور آزاد کشمیر سے پولیس کی مزید بھاری نفری طلب کرلی ہے۔

سوموار کی شب نجی بسوں کے ذریعے پنجاب پولیس کے قریباً دس ہزار پولیس اہلکاروں کو اسلام آباد منتقل کیا گیا ہے اور انھیں شہر کے مختلف سیکٹروں میں واقع سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتوں میں رکھا گیا ہے۔ سیکٹر جی نائن میں واقع ایک ماڈل گرلز کالج میں موجود بعض پولیس اہلکاروں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انھیں پولیس لائنز قلعہ گوجر سنگھ لاہور سے رات کو اسلام آباد پہنچنے کا حکم دیا گیا تھا۔

کالج کی عمارت کے اندر دس پندرہ نجی ٹرانسپورٹروں کی ملکیتی بڑی بسیں موجود تھیں۔ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان کی تعداد قریباً آٹھ سو ہے اور فی الوقت انھیں کچھ پتا نہیں ہے کہ انھوں نے کہاں ڈیوٹی انجام دینی ہے۔ان میں زیادہ تر نئے بھرتی ہونے والے رنگروٹ تھے اور انھیں اسلام آباد کے حدود اربعہ کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں تھا۔انھیں مظاہرین سے نمٹنے کے بجائے اسلام آباد کی فیصل مسجد اور دوسری اہم عمارتیں دیکھنے میں دلچسپی تھی اور وہ ادھر کا رُخ کررہے تھے۔