.

آزادی اور انقلاب مارچ :آج تخت یا تختہ؟

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی سے مذاکرات کے لیے وفاقی کابینہ کی کمیٹی تشکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دارالحکومت اسلام آباد میں آزادی اور انقلاب مارچ کے نام پر گذشتہ چار روز سے وارد دونوں جماعتوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک( پی اے ٹی) نے آج منگل کو کچھ کرگزرنے کے اعلانات کیے ہیں۔پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان اپنے دھرنے کی جگہ شاہراہ کشمیر سے انتہائی سکیورٹی والے علاقے ریڈ زون پر دھاوا بولنے جارہے ہیں اور علامہ طاہرالقادری شام پانچ بجے انقلاب کا حتمی اعلان کرنے والے ہیں۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں الگ الگ دھرنے دینے والی ان دونوں جماعتوں سے مذاکرات کے لیے سوموار کی شب وفاقی کابینہ کی ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔اس کمیٹی میں وفاقی وزراء ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ ،محمد اکرم درانی ،احسن اقبال ،خواجہ سعد رفیق اور وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے قومی امور عرفان صدیقی شامل ہیں۔

کابینہ کی اس مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کی خبر سے قبل پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے کے لیے دو دن کی دی گئی ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد منگل کو ریڈ زون کی جانب چڑھائی کا اعلان کردیا ہے۔

پی اے ٹی کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے رابطےکے لیے حزب اختلاف نے بھی دو الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ ڈاکٹرطاہر القادری سے مذاکرات کے لیے کمیٹی میں پارلیمان کے چار ارکان آفتاب احمد خاں شیرپاؤ، اعجاز الحق،سید حیدر عباس رضوی اور میر حاصل بزنجو شامل ہیں۔اس مذاکراتی کمیٹی نے پی اے ٹی کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری سے رات ملاقات کی کوشش کی لیکن انھوں نے اس سے ملنے سے انکار دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف سےمذاکرات کے لیے چار رکنی کمیٹی میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ،غلام احمد بلور،غازی گلاب جمال اور جماعت اسلامی کا ایک نمایندہ شامل ہے۔اس کمیٹی کی بھی عمران خان سے ملاقات کے کوشش ناکام رہی ہے اور ان ارکان کا کسی لیڈر سے رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔

ریڈزون پر چڑھائی؟

اسلام آباد میں تحریک انصاف نے آزادی مارچ اور پاکستان عوامی تحریک نے انقلاب مارچ کے نام سے گذشتہ جمعہ سے الگ الگ دھرنے دے رکھے ہیں۔دونوں جماعتیں وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے اور نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کررہی ہیں۔پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے اتوار کو سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کردیا تھا اور سوموار کو یہ کہا ہے کہ اگر وزیراعظم مستعفی نہیں ہوتے تو وہ ریڈ زون کی جانب مارچ کریں گے۔

عمران خان اپنے کارکنان سے چند گھنٹے کے وقفے سے خطبات میں گذشتہ چار روزسے پاکستان مسلم لیگ کی حکومت پر گرج اور برس رہے ہیں اور وہ بار بار وزیراعظم نواز شریف سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔سوموار کی شب انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ شریفوں نے ملک میں اپنی خاندانی حکومت قائم کررکھی ہے۔

انھوں نے اسلام آباد پولیس کو بھی یہ دھمکی دی ہے کہ ''اس کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کو عمران خان پر گولی چلانی ہے یا نہیں''۔ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ پولیس ان کی ہے اور وہ پولیس کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں چاہتے ہیں لیکن اگر ان کے کارکنوں کی جانب ہتھیار اٹھائے گئے تو پھر کسی کے لیے بھی بچنے کی جگہ نہیں رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا (آج منگل کو) پاکستان کے عوام کے عوام کی طاقت کا مظاہرہ دیکھے گی ۔انھوں نے اپنے پارٹی ورکروں سے وعدہ لیا کہ وہ ان کی ریڈ زون کی جانب بڑھنے میں پیروی کریں گے اور اگر کچھ ہوا تو وہ پہلی گولی خود کھائیں گے۔

ایک جانب وہ اپنے کارکنوں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دے رہے تھے اور دوسری جانب ان سے یہ بھی کَہ رہے تھے کہ وہ پُرامن رہیں اور ایک گملا بھی نہ توڑیں کیونکہ ہمارا مارچ پُرامن ہے اور یہ پُرامن ہی رہےگا۔یہ اور بات ہے کہ انھوں نے ارباب اقتدار کے خلاف تندوتیز اور اشتعال انگیز لب ولہجہ اختیار کررکھا ہے۔

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے یہ اعلان کیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے سوا دیگر تمام اسمبلیوں سے ان کے منتخب ارکان مستعفی ہوجائیں گے۔

عمران خان نے اتوار کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے کہا ہے کہ ''وہ دودن میں مستعفی جائیں۔اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر ان کا اپنے کارکنوں پر کوئی کنٹرول نہیں رہے گا''۔

عوامی پارلیمان کا فیصلہ؟

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے رات کے وقت اپنے تازہ خطاب میں کہا ہے کہ ''انقلاب پاکستان کےعوام کے مقدرکوتبدیل کرکےرہےگا۔انقلاب ملتوی یاموخرنہیں ہوسکتا۔ آج شام 5 بجے عوامی پارلیمنٹ کا انعقاد ہوگا اور عوامی پارلیمنٹ جو فیصلہ کرے گی پھر وہ وہی کریں گے''۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں ان کے کارکنوں کےساتھ جنگی قیدی سےبھی زیادہ براسلوک کیاگیا،یوم شہداء کےشرکاء نےلاٹھی چارج اورآنسوگیس کی شیلنگ کاسامنا کیا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پچیس ہزار کارکنوں کےخلاف مقدمات درج کیےگئے ہیں اور ان میں سے بہت تھوڑی تعداد کو رہا کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہدائےماڈل ٹاؤن ہی انقلاب کی اس جدوجہد کےہیروہیں۔

علامہ طاہرالقادری کے اس مجوزہ انقلاب کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ان کے کارکنوں کو بھی معلوم نہیں ہے کہ ان کے قائد محترم کے فرمان کے مطابق یہ انقلاب ''نافذ'' ہوجاتا ہے تو ان کا آیندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔اگر فرض کریں حکومت ختم اور اسمبلیاں تحلیل کردی جاتی ہیں تو پھر کیا ڈاکٹر طاہرالقادری نئی حکومت کی تشکیل کے لیے خود کو پیش کریں گے اور اس کی آئینی حیثیت کیا ہوگی۔

دوسری جانب ان کے ساتھی انقلابی رہ نما عمران خان وزیراعظم نواز شریف کے مستعفی ہونے کی صورت میں ایک نئی غیر جانبدار حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن ملک کے عوام کی اکثریت ،کاروباری طبقوں سرکردہ سیاست دان اور تجزیہ کاروں نے ان دونوں لیڈروں کے وزیراعظم کے استعفے اور حکومت کی تحلیل سے متعلق مطالبات کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔کاروباری طبقے نے عمران خان کی سرکاری محاصل ادا نہ کرنے کی تحریک کو بھی مسترد کردیا ہے۔