.

عمران خان کی تند وتیز تقریریں جاری، مطالبات کا اعادہ

عوامی تحریک کے حکومت سے مذاکرات، وزیراعلیٰ پنجاب کےاستعفے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر آزادی اور انقلاب مارچ جاری ہیں۔پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے حکومت کے خلاف اپنی تند وتیز تقریروں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ وہ بدستور وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کے مطالبے پرڈٹے ہوئے ہیں جبکہ عوامی تحریک نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کردیا ہے۔

ان دونوں جماعتوں نے گذشتہ چھے روز سے اسلام آباد میں دھرنے دے رکھے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ علامہ طاہرالقادری نے بدھ کو اپنے موقف میں کچھ لچک پیدا کی ہے اور وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوگئے ہیں۔البتہ وہ اپنے کسی مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں اور وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کی حکومت سے مستعفی ہونے پر زور دے رہے ہیں اور بار بار اس مطالبے کا اعادہ کررہے ہیں۔

بدھ کی رات حکومت کے چار رکنی مذاکراتی وفد نے پی اے ٹی کے وفد سے ابتدائی بات چیت کی ہے۔حکومتی وفد میں دو وفاقی وزراء احسن اقبال اور عبدالقادر بلوچ اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے دوارکان اسمبلی حیدر عباس رضوی اور اعجازالحق شامل تھے۔قبل ازیں حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں وفاقی وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کو شامل کیا گیا تھا لیکن پی اے ٹی کے ان سے ملنے سے انکار کے بعد حکومت نے ان کی جگہ احسن اقبال کو اس میں شامل کردیا ہے۔

مذاکرات کے ابتدائی دور میں عوامی تحریک کے وفد نے حکومتی وفد کو اپنے چھے بنیادی مطالبات پیش کیے ہیں۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر یہ کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کے ذمے دار حکام کو گرفتار کیا جائے ،ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔انھوں نے دوسرا یہ مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے استعفیٰ دیں اور ان کے خلاف ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی فائرنگ کے واقعہ میں مارے گئے پی اے ٹی کے چودہ کارکنان کے قتل کا مقدمہ چلایا جائے۔

پی ٹی اے کے سربراہ علامہ طاہرالقادری نے خود براہ راست حکومتی وفد سے ملنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ان کی طرف سے حکومتی وفد سے پاکستان مسلم لیگ ( ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین ،جماعت اہل سنت کے صاحبزادہ حامد رضا ،مصطفیٰ کھر اور سابق وزیرخارجہ سردار آصف احمد علی نے مذاکرات کیے ہیں اور اس کو اپنے مطالبات اور تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

عوامی تحریک کے حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہونے کے بعد اب اسلام آباد میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری بحران کے پُرامن طور پر حل ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے بدلے ہوئے رویے اور لب ولہجہ سے بھی عیاں تھا کہ وہ اپنے چند ایک بنیادی مطالبات کے پورا ہونے کے بعد دھرنے میں شریک اپنے جاں نثار ہزاروں کارکنوں کو پُرامن طور پر منتشر ہونے کا کَہ دیں گے۔

عمران خان کی دھمکیاں

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے حکومت کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ اپنے مطالبات کے پورا ہونے کے لیے ڈیڈ لائن کو بھی بڑھاتے جارہے ہیں۔انھوں نے منگل کی رات آب پارہ کے علاقے سے ریڈ زون کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو آج رات آٹھ بجے تک مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے اب اس ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کردی ہے اور وزیراعظم نواز شریف سے کہا ہے کہ اگر وہ استعفیٰ نہیں دیتے تو وہ وزیراعظم ہاؤس پر دھاوا بول دیں گے۔انھوں نے کہا کہ وہ نواز شریف کے مستعفی ہونے تک ریڈ زون میں دھرنا جاری رکھیں گے۔

اس دوران ایک اور اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں نے اجلاس کے دوران ملک میں نوزائیدہ اور لڑکھڑاتی جمہوریت کو بچانے کے لیے کھلے لفظوں میں وزیراعظم نواز شریف کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ ان دونوں جماعتوں کے دھرنوں کی وجہ سے اقتدار نہیں چھوڑیں اور ڈٹے رہیں کیونکہ پوری پارلیمان ان کے ساتھ ہے۔