قومی اسمبلی:11 جماعتوں کا وزیراعظم پر اظہارِ اعتماد

شعلہ بیان عمران خان اور علامہ طاہرالقادری کی احتجاجی ''تنہائی'' میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کی منتخب پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں نمائندگی کی حامل بارہ میں سے گیارہ سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم میاں نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ اسلام آباد پر گذشتہ ایک ہفتے سے دھاوا بولنے والی دونوں جماعتیں تحریک انصاف اور عوامی تحریک ان سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر ڈٹی ہوئی ہیں۔

آج جمعرات کو قومی اسمبلی میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم پر اظہاراعتماد کے لیے قرار داد پیش کی ہے۔حکومت کی اتحادی جماعتوں کے علاوہ حزب اختلاف کے ارکان نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ عمران خان کی تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور وہ اپنے استعفے جیبوں میں ڈال کر پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کررہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بدھ اور جمعرات کو ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بقا کی حمایت میں تقریریں کی ہیں اور انھوں نے وزیراعظم میاں نواز شریف پر زوردیا ہے کہ وہ دھرنے دینے والی جماعتوں کے مطالبے پر ہرگز بھی مستعفی نہ ہوں۔

بعد میں میاں نواز شریف نے اسلام آباد میں سینیر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران میں پارلیمان میں نمائندگی کی حامل بارہ میں سے گیارہ سیاسی جماعتوں نے ان کی جماعت مسلم لیگ نواز اور جمہوری عمل کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور تمام سیاسی قوتیں اس ایشو پر ایک ہی صفحے پر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''موجودہ علاقائی صورت حال کے پیش نظر اگر وہ مستعفی ہوجاتے ہیں تو اس سے ملک میں جمہوریت کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہوجائیں گے اور پاکستان ان کا متحمل نہیں ہوسکے گا۔ڈائیلاگ سے ہی موجودہ بحران کو حل کیا جاسکتا ہے۔ہم بہت ضبط وتحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں کیونکہ مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں''۔

پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے آزادی اور انقلاب مارچ کے شرکاء اسلام آباد کے حساس علاقے ریڈزون میں گذشتہ دوروز سے دھرنا دے رکھا ہے لیکن وہاں اب خود ان کے لیے مسائل پیدا ہونا شروع ہوگئے ہیں۔وہاں پانی دستیاب نہیں اور عارضی بیت الخلاء بھی نہیں بنائے گئے۔وہ دوروز پہلے آب پارہ میں اپنے دھرنے کی جگہوں سے پیش قدمی کرتے ہوئے ریڈزون میں واقع پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے اٹھ آئے تھے۔

دونوں انقلابی لیڈرعلامہ طاہر القادری اور عمران خان اپنے کارکنوں کو گرمانے کے لیے حکومت کے خلاف وقفے وقفے سے تندو تیز تقریریں کررہے ہیں۔وہ گذشتہ سات روز سے وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں مگر ابھی تک ان کی تلخ اور لچھے دار تقریروں کے باوجود حکومت اس مطالبے کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوئی ہے۔اب دوسری سیاسی جماعتیں بھی حکومت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہیں اور دونوں بزعم خویش انقلابی لیڈر اب ہرگزرتے دن کے ساتھ حکومت کے خلاف احتجاج کے عمل میں تنہا ہوتے جارہے ہیں۔

پاکستان بھر کی تمام بار کونسلوں اور وکلاء تنظیموں نے جمعرات کو ملک میں جمہوریت کے حق میں اور کسی بھی آئینی اقدام کے خلاف ہڑتال کی ہے اور وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے ہیں۔ملک کی کم وبیش تمام تاجر برادری نے عمران خان کی سول نافرمانی کی تحریک مسترد کردی ہے اور ان کے طویل ہوتے احتجاجی دھرنے کے خلاف صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بھی احتجاجی مظاہرے شروع کردیے ہیں۔

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کی احتجاجی دھرنوں کی وجہ سے اسلام آباد اوراس کے جڑواں شہر راول پنڈی میں معمول کا کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ چکا ہے اور دونوں شہروں کے مکین عام شہری ،سرکاری ملازمین اور کاروباری حلقے سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔انھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ بآسانی آنے جانے میں دشواری کے علاوہ ضروریات زندگی کی دستیابی اور خریداری میں بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

جڑواں شہروں کے مکینوں میں دونوں احتجاجی جماعتوں کے انقلابی قائدین کرام کے خلاف غم وغصے میں وقت کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے کیونکہ وہ ان کے مطالبات کو غیر منطقی اور غیرآئینی سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری نے اب اپنے مطالبات کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور اسی وجہ سے وہ پیچھے ہٹنے اور دھرنوں کو ختم کرنے پر تیار نہیں ہورہے ہیں۔صحافتی اور سیاسی حلقے حکومت پر بھی زوردے رہے ہیں کہ وہ اس بحران کو سلجھانے کے لیے پیش قدمی کرے اور اس کو معاملہ فہمی کے ذریعے کرنے کے لیے کسی بھی بات کو انا کا مسئلہ نہ بنائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں