.

عمران، قادری کی نئی تقریریں، الفاظ اور مطالبے پُرانے

عمران خان کے نامعلوم ایمپائر کے انگلی اٹھانے میں ایک دن رہ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گذشتہ آٹھ روز سے وارد تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے انقلابی لیڈروں عمران خان اور علامہ طاہرالقادری اپنے کارکنوں کو گرمانے کے لیے جمعہ کو نئی تقریریں کی ہیں۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے مطالبے دُہرائے ہیں اور وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

دونوں لیڈر وزیراعظم نواز شریف سے باربار مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اب ڈاکٹر طاہرالقادری نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ہم تمام حکومت اور نظام ہی ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ عمران خان کی جانب سے کسی نامعلوم امپائر کی جانب سے انگلی کھڑی کرنے کے لیے دیے گئے اڑتالیس گھنٹے میں ایک دن سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔

عمران خان نے شاہراہ دستور پر پارلیمنیٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں اپنے کارکنان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ گذشتہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی تھی۔اس لیے وزیراعظم نواز شریف مستعفی ہو جائیں، تمام اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک نیا پاکستان بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلیاں غیرآئینی اور غیر قانونی ہیں اور ان کے وجود کا کوئی جواز نہیں ہے۔پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے لیڈروں کے ان تند وتیز بیانات کے باوجود وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے اب تک ضبط وتحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور اسلام آباد میں ان دونوں کے دھرنوں کی سکیورٹی کے لیے رینجرز اور پولیس کے چالیس ہزار سے زیادہ اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کےاستعمال سے گریز کیا ہے۔ان پر اشک آور گیس کا کوئی استعمال نہیں کیا۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تقریروں میں حکومت کو دی گئی ڈیڈلائنز کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ ان کی مدت ختم ہونے کے بعد ایک نئی ڈیڈلائن دے دیتے ہیں۔انھوں نے منگل کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف بدھ کی رات آٹھ بجے تک مستعفی ہوجائیں۔اگر انھوں نے استعفیٰ نہیں دیا تو ان کے کارکنان وزیراعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی کریں گے اوراس میں داخل ہوجائیں گے۔

جب یہ ڈیڈ لائن گزر گئی تو جمعرات کو اپنے خطاب میں کہا کہ اگر وزیراعظم نے کل تک استعفیٰ نہ دیا تو ہفتے کو امپائر انگلی کھڑی کردے گا۔اب انھوں نے اس ریفری کی نشاندہی نہیں کی کہ وہ کون ہے اور کس قانون اور آئین کی کس دفعہ کے تحت انگلی کھڑی کرے گا؟

تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان بدھ کو مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا اور اس میں پی ٹی آئی کے وفد نے حکومت کے سامنے چھے نکاتی مطالبات پیش کیے تھے۔ان میں وزیراعظم کا استعفیٰ سرفہرست ہے۔حکومت پہلے تو اس مطالبے پر بات کرنے کو تیار نہیں تھی لیکن آج وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اس تجویز پر بھی بات کی جاسکتی ہے۔

نواز ،زرداری رابطہ

عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے اسلام آباد میں جاری دھرنوں سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے وزیراعظم نواز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری سے رابطہ کیا ہے اور انھیں ہفتے کے روز ظہرانے کی دعوت دی ہے جو انھوں نے قبول کر لی ہےاور دونوں لیڈروں کے درمیان کل ملاقات کریں گے۔

درایں اثناء پاکستان کی منتخب پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا سینیٹ نے بھی جمعہ کو ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کی ہے جس میں وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔گذشتہ روز قومی اسمبلی میں نمائندگی کی حامل بارہ میں سے گیارہ سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم میاں نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

اس دوران عمران خان کی تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفے بھی قومی اسمبلی کے سیکریٹری کو جمع کرادیے گئے ہیں۔اسپیکر ایاز صادق نے کہا ہے کہ وہ لاہور میں ہیں اور وہ سوموار کو ان استعفوں کا جائزہ لیں گے۔دوسری جانب جماعت اسلامی پاکستان کے امیر جماعت سراج الحق نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے استعفے واپس لیں۔

انھوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے بھی کہا ہے کہ وہ ان استعفوں کو منظور کرنے کے بجائے ان پر غور موخر کردیں۔انھوں نے تحریک انصاف اور حکومت دونوں پر زوردیا ہے کہ وہ دانش مندی اور افہام وتفہیم کا مظاہرہ کریں۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کی راہ نکالی جاسکتی ہے۔