مدت پوری کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے: آصف زرداری

تحریک انصاف کےساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی رائیونڈ میں نجی رہائشگاہ پر ہفتہ کو اُن کی سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات دو گھنٹوں سے زائد جاری رہی، جس میں دونوں سیاسی رہنماؤں نے آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔

وفاقی وزیر دفاع نے بتایا کہ آصف علی زرداری نے یہ واضح کیا کہ اُن کی جماعت ’ماورائے آئین یا ماورائے قانون‘ اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔

ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے ’نواز شریف کی حمایت پر وہ اُن کے ’مشکور ہیں‘۔

پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری اور سیاسی مشکلات کے شکار موجودہ وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان اس ملاقات کو سیاسی حلقے جمہوریت کے لیے خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے درمیان ملاقات میں شامل وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ آصف زرداری نے یہ واضح کیا کہ اُن کی جماعت کسی ماورائے آئین و قانون اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔ ’’اس میں سر فہرست اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا استعفیٰ مانگنا ریاست کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔‘‘

سابق صدر زرداری نے لاہور میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی سے بھی ملاقاتیں کیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی تحریک کے طاہر القادری اپنے ہزاروں حامیوں کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ عمران خان اور طاہر القادری دونوں ہی وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ادھر تحریک انصاف سے مذاکرات میں مصروف حکومت کی کمیٹی کے سربراہ گورنر پنجاب چوہدری غلام سرور نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ وزیر اعظم کے استعفٰی کے سوا تمام مطالبات پر اتفاق ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کےساتھ رابطےجاری رکھیں گے، جب رابطےکریں گے تو معاملات کا کوئی نہ کوئی حل نکلے گا۔

وہ تحریک انصاف کی کمیٹی سے بات چیت کے تیسرے رائونڈ کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ حکومتی کمیٹی گورنر پنجاب پرویز رشید، زاہد حامد، عبدالقادر بلوچ اور احسن اقبال پر مشتمل تھی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ضد اور انا پر کوئی حل قوم پر مسلط نہیں کر سکتے، تحریک انصاف کی کمیٹی مائنس ون فارمولے کے وکیل بن کر آئےتھے۔ تحریک انصاف کی ضد پر وزیر اعظم کو نہیں ہٹا سکتے۔ گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا استعفی بغیر ثبوت سزا دینے کے مترادف ہے، تحریک انصاف اور حکومتی کمیٹی نے کوشش کی کہ بحران سے نکلا جا سکے، تمام معاملات پر اتفاق کر لیا تاہم ایک بات پر ایک دوسرے کو متفق نہیں کر سکے۔ وزیر اعظم کے استعفے کے علاوہ تحریک انصاف کی تمام باتوں پر اتفاق کیا ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی نے کھلے دل کےساتھ تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کیے، آئین اورقانون کے مطابق جو بھی حل نکلے، اس کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے مطابق (ن) لیگ کو جتوایا گیا اور تحریک انصاف کو ہرایا گیا، اگر جوڈیشل کمیشن منظم دھاندلی کا بتا دے تو وزیر اعظم اور کابینہ کا بھی برقرار رہنے کا جواز نہیں۔ جوڈیشل کمیشن منظم دھاندلی کا کہہ دے تو بلاشبہ نئے انتخابات کرانے چاہییں، لیکن تحریک انصاف کی ضد پر غیر آئینی مطالبے کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ وزیر اعظم کا استعفیٰ میز پر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف تنہا کیسے کمیشن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کہتی ہےکہ صرف نواز شریف کو ہٹا دو،کابینہ وہی رہے۔ ہم نے تحریک انصاف سے کہا ہےکہ اپنے موقف میں تضاد پر غور کریں، ہم بھی چاہتے ہیں کہ آیندہ انتخابات غیر متنازع ہوں،جب تک دھاندلی ثابت نہ ہو اسمبلی نہیں توڑی جا سکتی، دنیا کا کوئی قانون یہ نہیں کہہ سکتا ہے فرد جرم سے پہلےخود فیصلہ سنا دیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں