2013ء کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چُرایا گیا؟

اسلام آباد میں جاری سیاسی بحران میں ایک نئے کردار کا اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گذشتہ دس روز سے جاری بحران میں اتوار کو ایک نئے کردار کا اضافہ ہو گیا ہے اور یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق ایڈیشنل سیکریٹری محمد افضل خان ہیں۔انھیں مئی 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات کے پندرہ ماہ کے بعد اچانک یہ خیال آیا ہے کہ ان انتخاب میں تو دھاندلی ہوئی تھی اور عوامی مینڈیٹ چُرالیا گیا تھا۔

محمد افضل خان وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کے مخالف سمجھے جانے والے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل اے آر وائی کے ایک ٹاک شو میں اتوار کی رات رونق افروز تھے۔اس پروگرام میں انھوں نے انتخابات ہی کو دھاندلی زدہ اور داغ دار قرار نہیں دیا ہے بلکہ ان کرداروں کی بھی نشان دہی کی ہے جو ان کے بہ قول دھاندلی میں ملوث تھے۔

انھوں نے اس پروگرام میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ،جسٹس افتخار محمد چودھری ،عدالت عظمیٰ کے سابق چیف جج ،جسٹس تصدق حسین جیلانی اور الیکشن کمیشن کے رکن جسٹس ریاض کیانی انتخابی دھاندلیوں میں ملوث تھے۔ان کا اپنے سابق ادارے کے اس وقت کے سربراہ ،چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کے بارے میں فرمانا تھا کہ انھوں نے انتخابی دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں پر آنکھیں موند رکھی تھیں۔

انھوں نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے سابق ججوں پر اتنے بڑے الزامات تو عاید کردیے ہیں لیکن اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور صاف کہا ہے کہ بس دھاندلی ہوئی تھی مگر وہ اس کا کوئی ثبوت نہیں دے سکتے۔واضح رہے کہ اس ٹاک شو کے میزبان حکومت مخالف سخت موقف رکھتے ہیں اور سنجیدہ شہری اور صحافتی حلقوں میں ان کی ساکھ کوئی ثقہ صحافی کی نہیں ہے۔

باریش محمد افضل خان صاحب نے اس میزبان سے کوئی دو گھنٹے کے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف ایک آزاد اور شفاف انداز میں منعقدہ انتخابات میں نہیں جیتے تھے۔انھوں نے مزید انکشاف کیا کہ مبینہ دھاندلی زدہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن پر بہت زیادہ دباؤ تھا۔

انھوں نے اس انٹرویو میں عدلیہ کو خوب رگیدا ہے اور کہا ہے کہ جج صاحبان انتخابی دھاندلیوں میں ملوث تھے اور انتخابی بے ضابطگیوں اور ووٹر فراڈ سے متعلق شکایات کی سماعت میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی تھی۔

افضل خان نے اپنے اس انٹرویو میں جو کچھ کہا ہے،یہ سب وہی الزامات ہیں،جن کا عمران خان گذشتہ دس روز سے اسلام آباد میں آباد میں جاری اپنی جماعت کے احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے تقریروں میں اعادہ کررہے ہیں۔انھوں نے اتوار کی شب ڈی چوک کے سامنے مجمع سے خطاب میں کہا کہ الیکشن کمیشن کے سابق ایڈیشنل سیکریٹری کے انٹرویو نے ان کے موقف کی تصدیق کردی ہے۔

عمران خان وزیراعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں اور وہ اس کے بغیر ٹلنے کو تیار نہیں۔انھوں نے میاں نواز شریف سے کہا کہ وہ دو ایک روز میں فیصلہ کرلیں ،ورنہ وہ سوموار کو ایک بڑا اعلان کردیں گے۔اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ ملک بھر پہیا جام کرادیں گے۔تاہم ان کی اسی طرح کی سول نافرمانی کی ایک اپیل پہلے ہی عوامی ،سیاسی ،سماجی اور کاروباری طبقے مسترد کر چکے ہیں۔

ریٹائرڈ بیوروکریٹ محمد افضل خان کے سوا سال کے بعد عام انتخابات کے بارے میں ان تازہ انکشافات پر صحافتی ،سیاسی اور قانونی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کی رپورٹنگ کرنے والے بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ افضل خان عام انتخابات کے انعقاد سے قبل ان کے انتظامات کو ''فول پروف'' کہتے رہے تھے اور ان کی نیوز بریفنگ کے دوران اگر کوئی صحافی ان سے سوال کیا کرتا تھا تو وہ سخت غصے میں آ جاتے تھے۔

ان صحافیوں کا کہنا ہے کہ خان صاحب کو اب اتنی دیر کے بعد کیوں یاد آیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور عوام کا مینڈیٹ چُرا لیا گیا تھا۔بعض باخبر صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری بحران میں ان کی شکل میں ایک نئے کردار کا اضافہ کیا گیا ہے اور یہ سب کچھ کسی خفیہ ہاتھ کے لکھے سکرپٹ کے عین مطابق ہورہا ہے۔اس مرحلے میں جلتی آگ پر تیل ڈالنے کی ضرورت تھی اور یہ کام ان بزرگ صاحب نے کردیا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور الیکشن کمیشن کےایک سابق رکن ریٹائرڈ جسٹس طارق محمود نے ان کے انکشافات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے نجی ٹیلی ویژن چینل جیو سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''افضل خان ایک سال تک سوئے رہے ہیں اور اب قوم کو انتخابی دھاندلیوں کی اطلاع دینے کے لیے ان کا ضمیر اچانک بیدار ہوگیا ہے اور ان پر وحی نازل ہوگئی ہے۔جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو وہ اس وقت کیوں نہیں بولے تھے''۔

انھوں نے کہا کہ یہی صاحب سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی تعریفوں کے پل باندھا کرتے تھے اور اب ان کے خلاف باتیں کررہے ہیں۔انھوں نے سابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم پر افضل خان کے الزامات پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ کسی اور کے بارے میں تو کچھ نہیں کہتے لیکن وہ فخرالدین صاحب کی امانت ودیانت کی گواہی دے سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کی سابق صدر اور انسانی حقوق کی معروف علمبردارعاصمہ جہانگیر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اگر سابق چیف جسٹس افتخار چودھری انتخابات میں دھاندلی میں ملوث تھے تو پھر عمران خان بھی ملوث رہے ہوں گے کیونکہ انھوں نے ہی سابق چیف جسٹس کو عدلیہ سے تعلق رکھنے والے ریٹرننگ افسروں کو تعینات کرنے پر اصرار کیا تھا اور اس مقصد کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ میاں نوازشریف کی حکومت گرانے کے لیے کیا جارہا ہے۔

حکمران مسلم لیگ نواز کے رہ نما اور صوبہ پنجاب کے سابق وزیرقانون رانا ثناء اللہ نے افضل خان کے انٹرویو میں کیے گئے دعووں کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ''اس طرح کے لوگ خاص مواقع کے لیے تیار کیے جاتے ہیں اور انھیں عمران خان کی فلاپ احتجاجی تحریک اور دھرنے کو تقویت پہنچانے کے لیے میدان میں اتارا گیا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں