نوازشریف ،شہباز اور 19 دیگر پر مقدمہ درج

ماڈل ٹاؤن واقعہ:ایف آئی آرمیں قتل ،اقدامِ قتل اور دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

حکومت کے حکم پر وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف ،ان کے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور چار وفاقی وزراء سمیت اکیس افراد کے خلاف لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ساتھ تصادم میں عوامی تحریک کے کارکنان کے قتل کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی گئی ہے۔

پنجاب پولیس کو جمعرات کو ماڈل ٹاؤن واقعہ کے ذمے دار عہدے داروں اور حکام کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم موصول ہوا تھا اور ماڈل ٹاؤن تھانہ کی پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 419 ، 148، 234 ،302 اور 109 کے تحت مذکورہ اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔یہ دفعات قتل ،اقدام قتل اور دہشت گردی سے متعلق ہیں۔

قبل ازیں پنجاب حکومت نے ایک چار رکنی کمیٹی مقرر کی ہے اور اس نے ماڈل ٹاؤن واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی سفارشات پر کام شروع کردیا ہے۔کمیٹی پولیس اہلکاروں اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے حامیوں میں خونریز تصادم کے ذمے داروں کا تعیّن کرے گی۔

توقع ہے کہ یہ کمیٹی ایک ہفتے میں اپنا کام مکمل کرلے گی اور صوبائی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کردے گی۔کمیٹی میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس خلیل الرحمان رمدے ، صوبائی سیکریٹری داخلہ ، سیکریٹری قانون اور پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل شامل ہیں۔

کمیٹی عدالتی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹس کی روشنی میں ماڈل ٹاؤن سانحہ کے ذمے داروں کا تعیّن کرے گی۔اس سے پہلے پنجاب حکومت نے عدالتی کمیشن سے واقعہ سے متعلق آڈیو/ویژول شواہد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

ماڈل ٹاؤن واقعہ کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے ایک روز پہلے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں پولیس کو واقعے کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے انتظامیہ کے احکامات پر کارروائی کی تھی جس کے نتیجے میں خونریزی ہوئی تھی۔رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کے پولیس کو احکامات دینے سے متعلق بیاناتِ حلفی کے مندرجات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

عدالت عالیہ لاہور نے منگل کو ماڈل ٹاؤن میں 17 جون کو پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چودہ افراد کی ہلاکت کا مقدمہ وزیراعظم میاں نوازشریف ،وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور چار وفاقی وزراء سمیت اکیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے ایڈیشنل سیشن جج کا حکم برقرار رکھا تھا اور اس کے خلاف چار وفاقی وزراء کی جانب سے ذاتی حیثیت میں دائرکردہ نظرثانی کی اپیل خارج کردی تھی۔

عدالتِ عالیہ کے اس حکم کے بعد اسلام آباد میں ریڈ زون میں یخ بستہ کنٹینر میں لنگرانداز علامہ طاہرالقادری نے سخت لب ولہجے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''اب موجودہ بحران صرف نواز شریف اور شہباز شریف کے استعفوں سے حل نہیں ہوگا بلکہ ان کو پھانسی پر لٹکایا جائے''۔انھوں نے کہا کہ شریف برادران سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمے دار ہیں اور انھیں اس کی سزا دی جائے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان دونوں بھائیوں کی منظوری کے بغیر اتنا بڑا واقعہ رونما نہیں ہوسکتا تھا۔

واضح رہے کہ حکومت ماڈل ٹاؤن واقعہ کی عوامی تحریک کی درخواست کے مطابق ایف آئی آر درج کرنے میں پس وپیش سے کام لیتی رہی ہے۔اس دوران بعض تجزیہ کاروں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ارباب اقتدار اور خاص طور پر وزیراعلیٰ پنجاب کا اس واقعہ سے براہ راست تعلق نظرآتا ہے جس کی وجہ سے حکومت ان کے اوروزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے مطالبے کو لٹکاتی چلی آرہی تھی۔

معروف دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل نے بدھ کی شب ایک جیو ٹی وی کے ایک ٹاک شو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ خفیہ اداروں نے ٹیلی فون پر ایسی گفتگو ریکارڈ کی تھی جس میں میاں شہباز شریف کسی پولیس افسر سے گفتگو کررہے ہیں اور اس کو ہدایات دے رہے ہیں۔پولیس افسر آگے سے یہ استفسار کررہا ہے کہ کیا آپ معاملے کو سنبھال لیں گے تو وہ کَہ رہے ہیں،ایسا ہی ہوگا۔

اکرام سہگل کے پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے گہرے روابط بتائے جاتے ہیں اور انھوں نے اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے۔ یہ بھی غیر مصدقہ اطلاعات آچکی ہیں کہ سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے پولیس کو ماڈل ٹاؤن میں واقع منہاج القرآن سیکریٹریٹ میں عوامی تحریک کے کارکنوں پر فائرنگ کا حکم دیا تھا اور اسی وجہ سے وہ اس واقعہ کے فوری بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں