.

پاک فوج کا حکومت کے کہنے پر سہولت کنندہ کا کردار

پاک فوج کے ترجمان کا بیان میری مشاورت سے جاری کیا گیا:چودھری نثار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ، میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک مختصر بیان میں وضاحت کی ہے کہ فوج ملک میں جاری موجودہ سیاسی بحران میں حکومت کی درخواست پر ''سہولت کنندہ'' کا کردار ادا کررہی ہے۔

میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے جمعہ کی شام ٹویٹر پر ایک مختصر بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ''چیف آف آرمی اسٹاف (جنرل راحیل شریف) سے وزیراعظم ہاؤس (اسلام آباد) میں گذشتہ روز ملاقات کے دوران ایک سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا گیا تھا''۔

پاک فوج کے ترجمان کے مذکورہ مختصر بیان کے بعد چودھری نثار علی خان نے ایک نیوز کانفرنس میں وضاحت کی ہے کہ یہ بیان ان کی مشاورت سے ہی جاری کیا گیا ہے۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ بیان ان کے پاس پہلے آیا تھا اور اس کے بعد ٹویٹر پر جاری کیا گیا ہے۔ یہ دراصل حکومت کے موقف اور میرے آج قومی اسمبلی میں بیان ہی کی تائید ہے۔

یہ دونوں بیانات جمعرات کی شب وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے دو انقلابی سیاست دانوں عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی آرمی چیف سے الگ الگ ملاقات کے حوالے سے پیدا ہونے والے ابہام کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔اس ملاقات کے حوالے سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دینے والی دونوں جماعتوں کے لیڈروں کا ایک مختلف موقف سامنے آیا ہے۔

قبل ازیں جمعرات کو ان دونوں احتجاجی لیڈروں نے اپنے حامیوں اور عوام کو خوش خبری سنائی تھی کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے ان کے دھرنوں سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ثالث اور ضامن مقرر کیا ہے اور انھوں نے جنرل راحیل شریف کی یقین دہانی پر وزیراعظم میاں نوازشریف کو مطالبات تسلیم کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا ہے۔

میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ اور وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کے بیانات میں ''سہولت کنندہ'' کا کردار ادا کرنے کی بات کی گئی ہے جبکہ دونوں احتجاجی لیڈر ''ثالث'' اور ''ضامن'' کے الفاظ استعمال کررہے ہیں۔وزیرداخلہ نے کہا کہ حکومت نے آئین کے تحت فوج کو کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔