.

''شریف برادران جائیں، نہیں تو دما دم مست قلندر''

آرمی چیف چار گھنٹے تک عمران خان اور طاہرالقادری کو سماعت کرتے رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دو احتجاجی سیاست دانوں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اورعوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے رات کے اندھیرے میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے راول پنڈی میں الگ الگ ملاقات کی ہے۔آرمی چیف چار گھنٹے تک دونوں لیڈروں کی گفتگو اور انقلابی افکار سماعت کرتے رہے ہیں۔اس میں انھوں نے بار بار اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف آج جمعہ کو مستعفی ہوجائیں نہیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا۔

جمعرات کی شب قریباً گیارہ بجے عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں اپنی جماعت کے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کے بعد اچانک آرمی چیف سے ملاقات کے لیے چل دیے تھے۔ان کے ساتھ ان کی جماعت کے ارب پتی سینیر رہ نما جہانگیر ترین تھے اور وہی ان کی گاڑی چلا رہے تھے۔

انھوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے قریباً ایک گھنٹے تک ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان اور پاک فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام بھی موجود تھے۔چودھری نثار حکومت کی نمائندگی کررہے تھے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ،میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹویٹر پر یہ اطلاع دی ہے کہ آرمی چیف سے عمران خان اور طاہر القادری نے راول پنڈی میں ملاقات کی ہے۔ان سے بحران کے حل کے حوالے سے بات چیت کی ہے اور ان کے سامنے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔

آرمی چیف سے ملاقات کے بعد عمران خاں نے ڈی چوک میں اپنے حامیوں کے اجتماع سے مختصر خطاب کیا اور کہا کہ ''ان کی جماعت کا وفد جمعہ کو پاکستان مسلم لیگ نواز کے وفد سے ملاقات کرے گا۔انھوں نے آرمی چیف کو دوٹوک الفاظ میں اپنی جماعت کے موقف سے آگاہ کردیا ہے کہ میاں نواز شریف اگر استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہوسکیں گی''۔

عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک عدالتی کمیشن عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کی آزادانہ تحقیقات کرے گا اور پاک آرمی ان تحقیقات کو شفاف بنانے کی ضامن ہوگی۔انھوں نے آرمی چیف کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے انھیں بحران کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جمعہ کی دوپہر تک اگر وزیراعظم کے استعفے کا اعلان کردیا جاتا ہے تو پھر ہم جشن منا رہے ہوں گے۔اگر وزیراعظم کے استعفے سے متعلق ان کا مطالبہ نہیں مانا جاتا ہے تو وہ پھر رات کو اپنے آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

3 گھنٹے 20 منٹ تک ملاقات

دوسرے انقلابی رہ نما علامہ طاہر القادری نے اپنے حامیوں سے خطاب میں بتایا کہ ''میری آرمی چیف سے تین گھنٹے بیس منٹ تک ملاقات ہوئی ہے اور میں اس سے بہت مطمئن ہوا ہوں''۔انھوں نے حکومت پر الزام عاید کیا کہ اس نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں عوامی تحریک کے کارکنوں کے قتل کے واقعہ کی ایف آئی آر کے اندراج میں دجل وفریب کا مظاہرہ کیا ہے اور میڈیا کو تمام ایف آئی آر نہیں دکھائی گئی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف نے اپنی قانونی ماہرین کی مدد سے یہ ایف آئی آر درج کرائی ہے۔اس میں دوتین صفحات انگریزی زبان میں لکھے ہوئے شامل کیے گئے ہیں اور انھوں نے آرمی چیف کو ایف آئی آر میں ہونے والی اس دھوکا دہی کے بارے میں بتا دیا ہے۔

علامہ طاہرالقادری نے بتایا کہ انھوں نے آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں اپنے انقلاب کے ایجنڈے کے ایک ایک نکتے کو واضح کیا ہے اور انھوں نے سوا تین گھنٹے تک بڑے صبر وتحمل سے ان کی باتوں کو سنا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس ایجنڈے پر ابتدائی تین مطالبات پورے ہونے کے بعد ہی مزید بات کی جائے گی۔

علامہ طاہرالقادری نے فجر کے وقت اپنے جان نثار کارکنوں کو گرماتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف نے دجل وفریب کی بنیاد پر درج کی گئی ایف آئی آر کو منسوخ کرانے اور ہمارے موقف کے مطابق نئی ایف آئی آر درج کرانے کا وعدہ کیا ہے۔انھوں نے زوردار الفاظ میں کہا کہ ہمیں میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف وزارت عظمیٰ اور وزارت اعلیٰ کی کرسی پر نہیں چاہئیں۔یہ دونوں استعفے دیں تو پھر معاملات آگے بڑھیں گے۔

انھوں نے اپنی تقریر کے آخر میں دوتین مرتبہ کہا کہ ہمارا اور عمران خان صاحب کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ نوازشریف استعفیٰ دیں۔اگر وہ آج مستعفی نہیں ہوتے تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا۔دما دم مست قلندر ہوگا۔ انھوں نے کم سے کم چار مرتبہ آرمی چیف اپنی سوا تین گھنٹے کی ملاقات کے دورانیے کا تذکرہ کیا۔

دونوں انقلابی لیڈر گذشتہ پندرہ روز سے آزادی اور انقلاب مارچ کے نام سے وارد ہیں اور وہ وزیراعظم میاں نوازشریف کے استعفے پر ہی سب سے زیادہ اصرار کررہے ہیں حالانکہ حکومت تحریک انصاف کے چھے میں سے پانچ مطالبات پہلے ہی مان چکی ہے اور ڈاکٹر طاہرالقادری کا بھی ماڈل ٹاؤن واقعہ کی ان کے موقف کے مطابق ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔

قبل ازیں جمعرات کو ان دونوں احتجاجی لیڈروں نے اپنے حامیوں اور عوام کو خوش خبری سنائی تھی کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے ان کے دھرنوں سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ثالث اور ضامن مقرر کیا ہے اور انھوں نے جنرل راحیل شریف کی یقین دہانی پر وزیراعظم میاں نوازشریف کو مطالبات تسلیم کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا ہے۔