.

مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل، پولیس کی شیلنگ جاری

انقلاب اور آزادی مارچ کے شرکا پر شلینگ، متعدد افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے جلوس وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں جنہیں روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے شیلنگ کی جا رہی ہے۔

آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں پسپائی اختیار کرنے والے عوامی تحریک اور تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے اب پارلیمنٹ ہاؤس کا رخ کیا ہے اور سینکڑوں افراد بیرونی جنگلے توڑ کر پارلیمان کے سبزہ زار میں پہنچ گئے ہیں۔

مظاہرین نے سیکریٹریٹ چوک میں موجود رینجرز کے ایک ٹرک کو آگ لگا دی ہے جبکہ پولیس حکام کے مطابق اب تک گرفتار کیے جانے والے افراد کی تعداد 95 ہو گئی ہے۔

پمز ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق اب تک وہاں 80 زخمی لائے گئے ہیں جبکہ کوئی لاش نہیں آئی۔ ہسپتال انتظامیہ وہاں آنے والے تمام زخمیوں کا اندراج کر رہی ہے۔

ہسپتال کے باہر تعینات درجن بھر پولیس اہلکار بھی مظاہرین کی جانب سے احتجاج کے بعد وہاں سے غائب ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی نجی ٹی وی چینلز پر اسلام آباد کے 'ریڈ زون' سے براہِ راست نشر کیے جانے والے مناظر میں سیکڑوں ڈنڈا بردار مظاہرین کو بار بار آگے بڑھتے اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باعث پیچھے ہٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مظاہرین کا ایک گروہ ٹرک کے ذریعے پارلیمنٹ ہاؤس کا جنگلہ گرانے کے بعد عمارت کے احاطے میں داخل ہوگیا ہے۔ اس وقت پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں سیکڑوں مظاہرین موجود ہیں۔

'ریڈ زون' مین کئی مقامات پر مظاہرین پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کر رہے ہیں جنہیں پیچھے ہٹانے کے پولیس شیلنگ کر رہی ہے۔

مشتعل مظاہرین نے پولیس کی ایک گاڑی اور رینجرز کے ایک ٹرک کو بھی نذرِ آتش کردیا ہے جب کہ 'ریڈ زون' میں کئی مقامات پر ٹائروں اور دیگر اشیا کو آگ لگادی ہے۔

علاقے میں موجود صحافیوں کے مطابق پولیس کی جانب سے انتہائی شدید شیلنگ کی جارہی ہے جس کے باعث سیکڑوں مظاہرین کی حالت غیر ہے۔

شیلنگ اور جھڑپوں کے باعث زخمی ہونے والے کئی پولیس اہلکاروں اور مظاہرین کو دارالحکومت کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

مظاہرین کے درمیان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اپنے کنٹینر اور طاہر القادری اپنی بلٹ پروف گاڑی میں موجود ہیں جنہیں ان کے کارکنوں نے حفاظتی حصار میں لے رکھا ہے۔

'ریڈ زون' اور شاہراہِ دستور کی مسلسل فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔

اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر 16 اگست سے دھرنے پر بیٹھے دونوں جماعتوں کے مظاہرین نے ہفتے کی شب اپنے رہنماؤں کی جانب سے دھرنے وزیرِاعظم ہاؤس کے باہر منتقل کرنے کے اعلان کے بعد پیش قدمی شروع کی تھی۔

ابتدا میں پولیس نے مظاہرین کا راستہ چھوڑ دیا تھا اور انہیں آگے بڑھنے دیا تھا۔ لیکن نجی ٹی وی چینلز کے مطابق مظاہرین کی جانب سے وزیرِ اعظم ہاؤس کے باہر لگائے گئے کنٹینرز ہٹانے کی کوشش پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے شیلنگ کا آغاز کیا۔

ٹی وی پر نشر کیے جانے والے مناظر میں مظاہرین کو غلیل اور ڈنڈوں سے پولیس پر حملے کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

مظاہرین نے 'ریڈ زون' میں کئی مقامات پر آگ بھڑکا رکھی ہے تاکہ آنسو گیس کے دھویں کا اثر کم کیا جاسکے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے بھی 'ریڈ زون' کا دورہ کیا ہے اور پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے افسران اور اہلکاروں کے ساتھ ملاقات کی ہے۔

اس موقع پر انہوں نے صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک گروہ پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیرِ اعظم ہاؤس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن ان عمارتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے جو اپنا فرض انجام دے رہے ہیں۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ہزاروں اہلکار گزشتہ دو ہفتوں سے 'ریڈ زون' میں تعینات ہیں جہاں پارلیمنٹ ہاؤس، ایوانِ صدر، سپریم کورٹ اور دیگر اہم سرکاری عمارتیں موجود ہیں۔

'ریڈ زون' میں موجود سرکاری عمارتوں کی حفاظت فوجی اہلکاروں کے سپرد ہے جنہوں نے عمارتوں پر پوزیشن سنبھال رکھی ہے۔ جب کہ عمارتوں کے باہر اور شاہراہوں پر پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں۔

اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعات کے بعد تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے اسلام آباد میں مظاہرین پر پولیس کی شیلنگ کے خلاف اتوار کو ملک بھر میں یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے جب کہ تحریکِ انصاف کی مقامی تنظیم نے کراچی میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔