.

اسلام آباد کا ریڈ زون جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے

مظاہرین اور پولیس میں علی الصباح دوبارہ جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کو پو پھوٹتے ہی پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے مظاہرین کی پولیس سے دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ وزیر اعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی کے دوران آنسو گیس کی شیلنگ اور جھڑپوں میں پولیس اہلکاروں ۱270فراد زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

پولیس کے ترجمان کے مطابق ابھی تک کوئی بھی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔ جھڑپوں میں 40 سے زائد پولیس اور 4 ایف سی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو پاکستان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ [پمز] اور پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ تھانوں کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ریڈ زون کی ہیلی کاپٹر سے فضائی نگرانی کی جا رہی ہے۔ علاقے میں آنسو گیس کی شیلنگ سے دھواں چھایا ہوا ہے۔ پی ٹی وی چوک پر بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ پاک سیکریٹریٹ کے سامنے شاہراہ دستور پر پولیس اور مظاہرین میں شدید لڑائی جاری ہے۔

دوسری طرف مظاہرین کی بڑی تعداد پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں داخل ہو گئی ہے اور مظاہرین گرین بیلٹ پر برجمان ہیں۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر موجود پریس کانفرنس کے ڈائس پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ تاہم پاک فوج کی جانب سے وارننگ کے بعد مظاہرین پارلیمنٹ ہاوس کے اندر داخل نہیں ہوئے ہیں۔

ملک گیر مظاہروں کی کال

ادھر تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اب پورے پاکستان میں تحریک انصاف کے کارکن نکلیں گے۔ بتائیں گے عوامی طاقت کیا ہوتی ہے سارا ملک بند کر دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ پرامن احتجاج ہمارا حق ہے۔ امریکا میں وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا اب سارا پاکستان بند کریں گے اور بتائیں گے عوامی طاقت کیا ہوتی ہے سارا ملک بند کر دیں گے۔

عمران خان نے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ باہرنکل کر حکومت کے غیر جمہوری اقدام کے خلاف احتجاج کریں۔ واضح رہے پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے کارکنان کو وزیر اعظم ہاؤس کی طرف جانے کا حکم دیا تھا جہاں انہوں نے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے مطابق دھرنا دینا تھا۔

اس موقع پر عمران خان کی جانب سے اپنے کارکنان کو مکمل طور پر پرامن رہنے اور کسی بھی قسم کا تشدد اور انتشار نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔