.

آمرانہ جمہوریت:عمران خان نے جاوید ہاشمی کو چلتا کیا

جمہوریت کو نقصان پہنچا تو ذمے دارعمران خان ہوں گے:ہاشمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی جماعت کے صدر اور کہنہ مشق بزرگ سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی کو اختلاف رائے کی بنا پر چلتا کیا ہے۔

عمران خان گذشتہ سترہ روز ''نئے پاکستان'' کی تعمیر کے نام پر اسلام آباد میں حکومت کے خلاف اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان کی یہ پُرامن تحریک گذشتہ روز سے تشدد کی شکل اختیار کرچکی ہے۔وہ دم تحریر وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ تو نہیں لے سکے اور نہ ان کے دعووں اور اپنے کارکنون کو دلاسوں کے باوجود امپائر نے ابھی تک انگلی کھڑی کی ہے،اس صورت حال سے دل برداشتہ ہوکر اب اختلاف رائے رکھنے والے قائدین اور ارکان اسمبلی کو آمرانہ انداز سے پارٹی سے نکال باہر کررہے ہیں۔

عمران خان نے اتوار کو اسلام آباد کے علاقے ریڈ زون میں اپنے بچے کھچے حامیوں سے خطاب میں اعلان کیا ہے کہ انھوں نے جماعت کے صدر جاوید ہاشمی سے راستے جُدا کر لیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مجھے ہاشمی صاحب کے رویے سے مایوسی ہوئی ہے۔انقلابی رہ نما عمران خان نے اسی تقریر میں قومی اسمبلی سے استعفے نہ دینے والے تین ارکان کو بھی پارٹی سے نکال دیا ہے۔

انھوں نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ''پی ٹی آئی وزیراعظم نواز شریف کے استعفے تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔میاں نوازشریف اور اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسروں کو مظاہرین کے خلاف کارروائی پر پکڑا جائے گا۔انھوں نے اپنے کارکنان سے کہا کہ وہ آج رات تیار رہیں کیونکہ ہمیں پتا چلا ہے کہ مجھے اور علامہ طاہر القادری کو گرفتار کیا جاسکتا ہے''۔

قبل ازیں پی ٹی آئی کے برطرف صدر جاوید ہاشمی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''عمران خان نے شاہراہ دستور سے آگے نہ جانے کی یقین دہانی کروائی تھی اور جماعت کے ایک اجلاس میں بھی یہی فیصلہ ہوا تھا لیکن شیخ رشید احمد اور سیف اللہ خان صاحب کوئی پیغام لے کر آئے اور عمران خان کے کان میں کچھ کہا۔اس کے بعد انھوں نے کہا کہ آگے جانا اب ''مجبوری'' ہے۔ طاہرالقادری نے بھی یہ کہا تھا کہ جب تک عمران خان آگے نہیں جاتے، میں آگے نہیں جاؤں گا''۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ جاوید ہاشمی صاحب نے ان پر الزام عاید کیا ہے اور یہ کَہ کر انھوں نے اپنے پارٹی صدر کو کوئی شوکاز نوٹس جاری کیے بغیر پارٹی سے نکال دیا ہے۔اس سے پہلے جاوید ہاشمی کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ''عمران خان نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ کو اختلاف ہے تو آپ چلے جائیں۔اس پر میں نے کہا کہ مذاکرات تو ہونے دیں،مگر عمران خان نے کہا کہ میں ادھر ہوں، میرا فیصلہ ماننا پڑے گا''۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ ''شاہ محمود قریشی بھی ڈی چوک سے آگے جانے کے حق میں نہیں تھے۔اب اگر جمہوریت کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمے داری عمران خان پر عاید ہو گی، مارشل لا میں اب کوئی فاصلہ نہیں رہ گیا ہے۔ لیڈر شپ کو کہتا ہوں کارکنوں کو مشکلات میں نہ ڈالیں''۔

انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان علامہ طاہرالقادری کے پیروکار بن گئے ہیں، میں نے طاہرالقادری کے نقش قدم پر چلنے کی مخالفت کی تھی۔ افسوس ہے کہ خان صاحب ایسے آدمی کے پیچھے چل پڑے ہیں جو پارلیمان ہی کو نہیں مانتا ہے۔ جاوہد ہاشمی نے کہا کہ کپتان صاحب واپس آ جائیں، کارکنوں کو مشکلات میں نہ ڈالیں، میں ان کےساتھ کھڑا ہو جاؤں گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے غلط انداز حکمرانی سے حالات خراب ہوئے ہیں، ان کو اس کا حساب دینا پڑے گا۔ جاوید ہاشمی نے پولیس کی طرف سے میڈیا کے نمائندوں پر تشدد کی بھی مذمت کی۔

انھوں نے ماضی میں تحریک انصاف کی قیادت سے اختلاف کے بارے میں بھی اس نیوز کانفرنس میں بعض انکشافات کیے ہیں اور کہا ہے کہ ''جب پارٹی میں میری بات نہیں سنی جاتی تھی تو ملتان چلا جاتا تھا یا بیمار ہوتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ میں بیمار ہوتا تھا اور نہ مجھے بیوی بچوں کی یاد آتی تھی، میں احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ملتان چلا جاتا تھا''۔ نھوں نے کہا کہ ''ابھی بغاوت نہیں کی، پارٹی کا صدر ہوں لیکن لگتا ہے کہ ایک اور بغاوت کرنا پڑے گی''۔لیکن جاوید ہاشمی کو اس بغاوت سے قبل ہی جماعت کے چئیرمین نے صدارت سے فارغ کردیا ہے۔