.

پاک آرمی: جمہوریت کی حمایت کے لیےعزم کا اعادہ

بحران کو وقت کے ضیاع اور تشدد کے بغیر سیاسی طور پرحل کیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی نے ملک میں جمہوریت کے لیے حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اسلام آباد میں جاری بحران کو جلد سے جلد سیاسی طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راول پنڈی میں اتوار کی شب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے زیر صدارت کور کمانڈرز کی ہنگامی کانفرنس ہوئی ہے۔اس میں اسلام آباد میں دو جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے احتجاجی دھرنوں اور ان میں تشدد در آنے سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا ہے۔

کانفرنس چار گھنٹے تک جاری رہی۔اس کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''کورکمانڈرز کانفرنس میں موجودہ سیاسی صورت حال کا گہری تشویش کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے اور سیاسی بحران نے تشدد کا رُخ اختیار کر لیا ہے جس کے نتیجے میں انسانی جانی نقصان ہوا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔طاقت کے مزید استعمال سے مسئلہ شدت اختیار کرے گا''۔

بیان میں کہا گیا ہے:''ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ اس صورت حال کو وقت کے مزید ضیاع اور تشدد کے ذرائع استعمال کیے بغیر سیاسی طور پر حل کیا جائے۔آرمی ریاست کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی اور قومی اُمنگوں کو پورا کرنے میں پیچھے نہیں ہٹے گی''۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ،عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کے حامی سیاست دان اور میڈیا کا ایک حلقہ کور کمانڈرز کی اس کانفرنس سے بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھا لیکن آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد ان کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ہے اور عمران خان اپنی تقریروں میں بار بار ایمپائر کی جس انگلی کے کھڑی ہونے کا اپنے حامی مظاہرین کو جھانسا دیتے چلے آرہے تھے تو اس کے اب کھڑی ہونے کے امکانات قریباً معدوم ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کے ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کسی بھی طرح جمہوریت کی بساط کو لپیٹنے کے حق میں نہیں ہیں اور وہ کوئی بھی ایسا اقدام نہیں چاہتے ہیں جس سے آرمی پر کوئی حرف آئے۔اسی لیے کورکمانڈرز نے دونوں احتجاجی جماعتوں کے دھرنوں سے پیدا ہونے والی صورت حال کو سیاسی طور پر حل کرنے پر زوردیا ہے اور تشدد کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔

درایں اثناء وفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویز رشید نے سرکاری ٹیلی ویژن کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ہم نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے ہیں،ہم اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور جہاں وہ کہیں گے،ہم وہاں ان سے ملنے کو تیار ہیں''۔ان کا اشارہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کی مذاکراتی ٹیموں سے بات چیت کی جانب تھا۔

وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے بھی کہا ہے کہ حکومت اب بھی دونوں احتجاجی لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور بعض دوسرے قائدین پس پردہ بحران کے حل کے لیے دونوں فریقوں کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہفتے کی رات پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اچانک اپنے دھرنوں کو پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک سے وزیراعظم ہاؤس کی جانب منتقل کرنے کا اعلان کردیا تھا اور پھر وہ کرین کے ساتھ آگے بڑھنے لگے تھے۔

اس دوران بعض مظاہرین کٹر اور ہتھوڑوں کی مدد سے پارلیمینٹ ہاؤس کے بیرونی گیٹ کو توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور دوسری جانب مظاہرین کرین کی مدد سے کنٹینروں کو ہٹاتے ہوئے ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے لگے تو پولیس نے ان کو روکنے کے لیے اشک آور گیس کی شیلنگ شروع کردی جس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربر کی گولیاں فائر کیں۔پولیس اور مظاہرین میں اس تصادم اور اشک آور گیس کے شیل لگنے سے اتوار کی شام تک تین افراد ہلاک اور پانچ سو ساٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں ستتر سکیورٹی اہلکار ہیں۔زخمیوں میں زیادہ تعداد عوامی تحریک کے کارکنان کی ہے۔