مظاہرین، حکومت کے درمیان مسائل حل کرا سکتے ہیں: عدلیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مظاہرین اور حکومت کے درمیان مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی پیش کش کر دی اور قیادت سے مشاورت کر کے رپورٹ جمع کرانے کے لیے وکلاء کو ایک گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے ممکنہ ماورائے آئین اقدامات اور راستوں کی بندش سے متعلق کیس کی سماعت کی جس دوران اٹارنی جنرل نے شاہراہ دستور کی بندش سے متعلق رپورٹ جمع کرا دی۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل احمد اویس نے موقف اپنایا کہ اُن کے موکل کا موقف ہے کہ 2013ءکے عام انتخابات دھاندلی زدہ تھے جس پر جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ دھاندلی زدہ ہونے کا تعین کون کرے گا؟

پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھاکہ عدالت کی مداخلت سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے جس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایک فریق شکایت کنندہ ہے اور دوسرا مبینہ ملزم، کسی ادارے کو تو درمیان میں آنا پڑے گا، بطور حتمی ثالث سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

اُنہوں نے کہاکہ ازخود نوٹس لینے کا کہا گیا لیکن اس معاملے پر درخواستیں کافی آ چکی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے بڑی بات کیا ہو گی کہ سرکاری عمارتوں کو بھی خطرہ ہے، اُن کی گاڑی پر پتھراﺅ کیا گیا۔ اگر یہی صورتحال چلتی رہی تو عدالت کس لیے ہے؟ کیا یہ اجازت ملی تھی کہ مظاہرین پی ٹی وی کی عمارت میں گھس جائیں، اس وقت ملک کی سالمیت خطرے میں ہے، جو بھی ذمہ دار ہو گا بالآخر جوابدہ ہو گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فریقین اپنی قیادت سے ہدایات لے لیں، رضا مندی کی صورت میں تجاویز دی جائیں جن کا آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے جائزہ لیا جائے گا اور مجوزہ حل کی کوشش کریں گے۔ فاضل عدالت نے سماعت ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی۔

عدالتی پیشکش پر جسٹس طارق محمود کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا سیاسی معاملات میں مداخلت کا کوئی کام نہیں، قانون کی کوئی بات ہی نہیں، ثالثی یاضمانت کی بجائے براہ راست حکم دیا جا سکتا ہے، سکرپٹ پر اچھی طرح عمل کیا گیا، ہر جگہ فوج موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں