.

''نروس بریک ڈاؤن سے بہتر ہے،تیار ہوکر جائیں''

پی ٹی آئی کے کارکنان جذبات سے مغلوب اور مشتعل تھے،تشدد متوقع تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

''نروس بریک ڈاؤن سے بہتر ہے آج ہم تیار ہوکر جائیں ،ڈنڈے سوٹے لے کر جائیں اور کچھ کرگزریں۔ پندرہ دن ہوچکے ہیں اور اس احتجاجی دھرنے کا کوئی نتیجہ ہی برآمد نہیں ہورہا ہے''۔

یہ الفاظ تھے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے ایک سرگرم مقامی رہ نما محمد اشرف کے۔ وہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں اور ان دنوں کتابوں اور اسٹیشنری کی دکان چلا رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ پاک آرمی کی ایک ریٹائرڈ کیپٹن ڈاکٹر ہیں۔وہ بھی پی ٹی آئی کی سرگرم کارکن ہیں۔ وہ ہفتے کی رات پُرامن احتجاجی تحریک کا تشدد کا رُخ اختیار کرنے سے قبل تک گذشتہ پندرہ روز سے تحریک انصاف کے ڈی چوک میں دھرنے میں شرکت کے لیے جارہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کے نمائندے کی جمعہ کی صبح ان کی دکان پر ملاقات ہوئی تو وہ سخت غصے میں تھے۔آنکھوں میں نیند کا خمار تھا۔ان سے پوچھا:''اپنے لیڈر عمران خان کی طرح آپ کیوں غصے میں ہیں؟''انھوں نے جو جواب دیا،اس میں ہفتے کی رات اور اس کے بعد پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے مشتقل کارکنان کے پارلیمنیٹ ہاؤس پر دھاوے ،ایک نجی ٹی وی چینل کی عمارت پر حملے اور وزیراعظم ہاؤس کی جانب کٹروں ،ہتھوڑوں اور ڈنڈوں سے مسلح ہوکر پیش قدمی کا بھی جواب تھا۔

کہنے لگے:''دیکھیں سرجی۔۔۔۔ اور یہ ان کا تکیہ کلام ہے،ہمیں پندرہ روز احتجاج کرتے ہوگئے ہیں،کوئی نتیجہ ہی برآمد نہیں ہورہا ہے،ہم گذشتہ سال منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں دھاندلیوں کے ثبوت پیش کررہے ہیں مگر کوئی ہماری سن ہی نہیں رہا ہے۔میرا تو کل نروس بریک ڈاؤن ہونے لگا تھا۔میں سخت ذہنی دباؤ میں ہوں اور میری طرح دوسرے لوگ بھی اسی کیفیت اور کرب میں مبتلا ہیں۔ہم دس پندرہ لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ڈنڈے لے کر جائیں گے اور عمران خان سے کہیں گے یا تو آگے بڑھو اور کچھ کر گزرو نہیں تو ہم تمھارے سر میں یہ ڈنڈے برسا دیں گے''۔

دھرنے میں شریک بہت سے دوسرے کارکنان کے بھی یہی جذبات تھے اور انھیں عمران خان صاحب کی جذباتی اور اشتعال انگیز تقریروں نے بھی خوب گرما رکھا تھا۔ایسے ہی سرگرم کارکنوں نے شاید اپنے اپنے طور پر ڈنڈے لے جانے کا فیصلہ کیا اور پھر ہفتے کی رات ڈی چوک میں جو کچھ ہوا ہے،وہ کیمرے کی نظر سے پوری دنیا ملاحظہ کر چکی ہے حالانکہ شام تک پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم اور وفاقی وزراء کے وفد کے درمیان مذاکرات میں ان کے چھے میں سے پانچ مطالبات کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کافی پیش رفت ہوچکی تھی لیکن عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی جانب سے اچانک دھرنوں کو وزیراعظم ہاؤس کے سامنے منتقل کرنے کے فاتحانہ انداز میں اعلان کے بعد تشدد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

پی ٹی آئی کے بیشتر قائدین ڈی چوک سے دھرنے کو اکھاڑنے کی مخالفت کررہے تھے مگر عمران خان نے ان کی ایک نہ سنی اور وہ آگے بڑھنے لگے۔ پولیس نے ان کو روکنے کے لیے اشک آور گیس کی شیلنگ شروع کردی جس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے اپنے دفاع میں ربر کی گولیاں فائر کیں۔پولیس اور مظاہرین میں اس تصادم اور اشک آور گیس کے شیل لگنے سے اتوار کی شام تک تین افراد ہلاک اور پانچ سو ساٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں اسّی سکیورٹی اہل کار ہیں۔ان میں سے بعض کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔زخمیوں میں زیادہ تعداد عوامی تحریک کے کارکنان کی ہے۔

اسلام آباد میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور تشدد درآنے پر اب تک جو تفصیل سامنے آئی ہے ،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ آناً فاناً نہیں ہوا تھا بلکہ دونوں جماعتوں کے بعض کارکنان پہلے سے ہی باقاعدہ طور پر مسلح ہوکر آئے تھے کیونکہ ان کے پاس کٹر تھے جن سے وہ خاردار تار اور لوہے کی چادریں کاٹ رہے تھے،وہ ڈنڈوں سے مسلح تھے جو وہ سرکاری عمارتوں، پولیس اور میڈیا اداروں کی گاڑیوں پر برسا رہے تھے اور اپنے بچاؤ کے لیے پولیس اہلکاروں کی جانب بھی پھینک رہے تھے۔

عوامی تحریک کے دھرنے میں خواتین اور ان کے ساتھ بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔وہ اشک آور گیس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں جبکہ دونوں جماعتوں کے قائدین عمران خان اور طاہر القادری اپنے اپنے یخ بستہ کنٹینروں میں چھپ کر بیٹھے رہے تھے حالانکہ پہلے وہ خود آگے بڑھنے اور پہلی گولی کھانے کے اعلانات کررہے تھے۔

مظاہرین اور پولیس کے درمیان تشدد کے واقعے پر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں اور کارکنان نے حکومت کی مذمت کی ہے اور بحران کو پُرامن طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے لیکن حکومت کے موقف کے حامی حلقوں ،قانون دانوں ،بعض صحافیوں اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ جب حکومت کی عمل داری کو چیلنج اور پارلیمان اور دوسرے ریاستی اداروں کا تقدس پامال کیا جا رہا ہو تو پھر اس کے پاس محدود پیمانے پر طاقت کے استعمال کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں رہ جاتا ہے۔اس لیے ان کے نزدیک حکومت کا اقدام درست ہے کیونکہ پہل تو دوسرے فریق کی جانب سے ہوئی تھی اور اس نے ہی اہم عمارتوں کی جانب بڑھنے اور ان کا تقدس پامال کرنے کی کوشش کی ہے۔

تاہم اس تمام صورت حال میں پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن سخت پشیمان ہیں کیونکہ ان کے بہ قول اب ان کے راستے محدود ہوتے جارہے ہیں۔حکومت وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں، جماعت کی مرکزی قیادت خان صاحب کے آمرانہ طرزعمل پر ناخوش ہے۔وہ صرف میاں نواز شریف کے استعفے ہی کی رٹ لگا رہے ہیں اور اس کے بغیر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ان کے اس رویے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کارکنان نے بھی اس دھرنے سے بلند توقعات وابستہ کرلیں اور ان کا خیال تھا کہ اس طرح ریڈ زون میں جاتے ہی دودھ اور شہر کی نہریں بہ نکلیں گی لیکن گذشتہ سولہ سترہ دنوں میں ایسا کچھ نہیں ہوا ہے اور ان کے قائد محترم جس ایمپائر کے انگلی اٹھنے کے منتظر تھے،اس نے صاف مداخلت سے انکار کردیا ہے۔