.

پاکستانی جلد خوش خبری سنیں گے:مصالحتی جرگہ

کروڑوں عوام پریشان ہیں،ڈیڈلاک کو ختم کرنا چاہتے ہیں :سراج الحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہ نماؤں پر مشتمل ایک مصالحتی جرگے نے اسلام آباد میں دھرنا دینے والے دونوں احتجاجی لیڈروں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کی ہے۔ جرگے کے سربراہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد قوم کو خوش خبری دیں گے۔

سراج الحق نے منگل کی شب دونوں لیڈروں سے ریڈ زون میں ان کے کنٹینروں میں ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ہمارے عوام ،بچے، بوڑھے ،مائیں اور بہنیں سب پریشان ہیں۔ہم تماشائی نہیں ہیں۔ یہ ہم سب کا ملک ہے اور ہم حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ عوام کی جانب سے یہاں آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے قبل ازیں بھی اپنی صلاحیت استعمال کرکے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ سڑکوں پر لگے کنٹینروں کو ہٹائے۔اگر افغانستان ،عراق اور فلسطین میں تنازعات کو طے کرنے کے لیے مذاکرات ہوئے ہیں تو ہم کیوں مذاکرات کیوں نہیں کرسکتے ہیں۔

انھوں نے دھرنوں کے شرکاء کو بھی خراج تحسین پیش کیا کہ انھوں نے نظم وضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔وہ انتہا پسند اور جذباتی نہیں۔ منظم لوگ ہیں۔حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے ہماری بہت سی چیزوں کو تسلیم کر لیا ہے۔ اب ہماری خواہش ہے کہ ہم فریقین کے درمیان جاری ڈیڈ لاک کو ختم کرائیں اور ان کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لائیں۔

سراج الحق نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی ، پی اے ٹی اور حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو سیاسی جماعتیں اس کی ضامن ہوں گی ۔یہ سب کچھ میڈیا کے سامنے ہوگا اور میڈیا کے ذریعے ہی سب کچھ عوام کے سامنے آئے گا تا کہ اگر کوئی فریق اس سے منحرف ہوتا ہے تو وہ بھی دنیا کے سامنے آجائے گا۔

جرگے میں شامل پیپلز پارٹی کے رہ نما عبدالرحمان ملک نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت جلد قوم کو خوش خبری سنائیں گے۔مصالحتی جرگے کے ارکان نے بعد میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے رہ نما جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر ان کی جماعت کے وفد سے بحران کے خاتمے کے لیے بات چیت کی اور اس میں بدھ کی شام چار بجے عبدالرحمان ملک کی رہائش گاہ پر اگلا اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے بعد حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں نے مشاورت سے یہ چھے رکنی مصالحتی جرگہ تشکیل دیا ہے ۔اس میں امیر جماعت اسلامی کے علاوہ لیاقت بلوچ ، غازی گلاب جمال، عبدالرحمان ملک ،میر حاصل بزنجو اور سینیٹر کلثوم پروین شامل ہیں۔یہ حضرات بحران کے کسی آبرومندانہ حل تک حکومت اور احتجاجی سیاست کرنے والوں سے بات چیت جاری رکھیں گے۔