.

پاکستانی پارلیمنٹ وزیر اعظم کے ساتھ کھڑی ہو گئی

پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمنٹ نے آئینی و جمہوری نظام بچانے کے لیے متفقہ طور پر وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کی حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

پارلیمنٹ کا اجلاس صدر مملکت ممنون حسین نے ملک میں جاری دو جماعتی احتجاج پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے طویل دھرنے سے پیدا شدہ صورت حال کے پیش نظر طلب کیا تھا۔ پاکستان جہاں مسلم لیگ نواز گروپ واضح اکثریت کے ساتھ پچھلے سال ماہ جون میں بر سر اقتدار آئی تھی اور ملک کی اہم مذہبی جماعت جمعیت علماء اسلام [ف] کے علاوہ شورش زدہ صوبہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں ان کی حکومتی اتحادی ہیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران احتجاج میں شامل پاکستان تحریک انصاف کے ناراض صدر جاوید ہاشمی نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر اس مشترکہ اجلاس میں شرکت کی ملک میں آئینی، پارلیمانی اور جمہوری نظام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ تاہم انہوں نے اپنے آُپ کو اپنے جماعت کے نظم و ضبط کا پابند قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کی رکنیت سے موقع پر ہی استعفی دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل جب وہ ایوان میں داخل ہوئے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا اور روائتی انداز میں ڈیسک بجائے۔

واضح رہے پاکستان کی پارلیمنت کا روائتی طور پر مشترکہ اجلاس صدر مملکت کے خطاب کے لیے یا صرف خاص موقع پر محض ایک دن کے لیے بلایا جاتا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے پاکستان کی تاریخ میں سیاسی اعتبار سے باہم دست و گریبان رہنے والی اپوزیشن کی تمام تر جماعتیں مسلسل وزیر اعظم کے استعفی کے مطالبے کے خلاف متحد ہیں اور اسی اتحاد کا مظاہرہ دو جماعتی اتحاد اور اس کے حامی طبقات کو باور کرانے کے لیے پارلیمنٹ کا پورے ایک ہفتے کے لیے اجلاس طلب کیا ہے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ملک میں جاری احتجاج کے بارے میں حکومتی پالیسی واضح کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے والوں میں ڈیڑھ ہزار کی تعداد میں ایک عسکری تنظیم کے تربیت یافتہ دہشت گرد موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے تحریک انصاف کے ناراض صدر مخدوم جاوید ہاشمی کے ایک روز قبل کیے گئے ان انکشافات کہ''دھرنے کو مبینہ طور فوج اور عدلیہ کی پشت پناہی حاصل ہے'' کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں اظہار خیال سے گریز کیا۔

اسی وجہ سے جاوید ہاشمی کے بقول انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کو ایک بڑی محلاتی سازش جانتے ہوئے اپنی جماعت کے بانی چئیر مین عمران خان سے تین روز پہلے اختلاف کیا اور احتجاج سے الگ ہوئے تھے۔

پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے وزیر اعظم کو نوید سنائی کہ ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ پاکستان کی تاریخ مین پہلی مرتبہ ساری اپوزیشن ان کے ساتھ ہے۔ البتہ انہوں نے کہا ہم مجبورا حکومت کے ساتھ ہیں کہ ہم اس آئینی اور جمہوری نظام کو پر بچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بحرانی صورتحال سے نکلنے کے ساتھ ہی ان کی جماعت بھر پور انداز میں حکومتی پالیسیوں اور کارکردگی پر تنقید کرے گی۔

اعتزاز احسن نے اس موقع پر پنجاب کے دارالحکومت میں ماہ جون کے دوران پاکستان عوامی تحریک کے 14 کارکنوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد حکومتی رویے پر تنقید کی اور تحریک انصاف کی طرف سے دھاندلی کے الزام کی تائید کیا اور مسلم لیگی حکومت کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ رویے کو بھی ناپسندیدہ قرار دیا۔ تاہم انہوں نے دونوں احتجاجی جماعتوں کے طریقہ احتجاج اور غیر آئینی مطالبات کی مخالفت کی۔

جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور پارلیمانی نطام کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا حکومت سے شکایات ہیں لیکن یہ موقع شکایات کرنے کا نہیں ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے دونوں احتجاجی جماعتوں کوسخت آڑے ہاتھوں لیا اور کہا صوفی محمد کی طرف سے آئین کو نہ ماننے پر اگر آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے تو عمران خان اور طاہرالقادری کے خلاف کیوں مقدمہ نہیں بنایا جا رہا، انہوں نے کہا ''بھارتی پارلیمنٹ سے ہماری پارلیمنٹ کی عزت کم نہیں ہے۔ اس پر حملہ آور ہونے اور اسے گالیاں دینے والے جتھوں سے اسلام اباد کو پاک کیا جائے۔''

مولانا فضل الرحمان نے اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ پولیس کے کے لیے ڈنڈے ہیں جبکہ فوج کے حق میں نعرے لگاتے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا پولیس بھی اسی ریاست کی ہے۔
مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے غیر مشروط اور پر زور انداز میں حکومت و جمہوریت کا حمایت کا اعلان کیا اور اس موقع مطالبہ کیا جس طرح پی ٹی وی پر حملہ کرنے والوں کو فوج نے نکال باہر کیا ہے اسی طرح پارلمنٹ کے سامنے سے اٹھا دیا جائے۔

محمود خان اچکزئی نے مزید کہا اگر آج تمام جماعتیں جمہوریت کے حق میں کال دیں تو پانچ کروڑ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ پوری قوم آئین و جمہوریت کے لیے متحد ہے ۔ احتجاجی دھرنے میں شریک جماعتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ان میں تربیت یافتہ دہشت گرد شامل ہیں ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پاکستان تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں پارلمانی نظام کی بقاء کو ملکی بقا کے لیے ضروری قرار دیا اور اس کے لیے اپنی غیر معمولی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں آج اپنی گردن کٹوا کر یہاں آیا ہوں۔

انہوں نے حکومتی کی غلط کاریوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا وزیر اعظم نواز شریف چودہ ماہ تک سینیٹ میں کیوں نہ آئے۔ جاوید ہاشمی نے اپنے خطاب کے آخر میں سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میں اپنی جماعت تحریک انصاف کے نظم و ضبط کا پابند ہوں اس لیے آج پارلیمنٹ سے استعفا دیتا ہوں۔

مشترکہ اجلاس سے متحدہ قومی موومنٹ کے خالد مقبول صدیقی نے بھی خطاب کیا اور پاکستان عوامی تحریک کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے وزیر اعظم سے قربانی دینے کے لیے کہا۔ انہوں نے اس موقع پر تحریک انصاف کا نام لیے بغیر اس پر تنقید کی اور کہا ایک جماعت کراچی کو فتح کرنے آنا چاہتی ہے۔ واضح رہے یہ اجلاس پورا ایک ہفتہ جاری رہنے کا اعلان کیا گیا ہے۔