.

نواز شریف کے استعفیٰ کے بغیر نہیں جاؤں گا:عمران خان

وزیراعظم پر پاک فوج کو بدنام اور ملکی اداروں کو تباہ کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے سربراہ عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے مگر انھوں نے اپنی جماعت کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی کی جانب سے چند گھنٹے قبل لگائے گئے سنگین الزامات میں سے بیشتر کا براہ راست کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

عمران خان نے منگل کو علی الصباح اسلام آباد کے ریڈ زون میں اپنی جماعت کے احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے خطاب کیا ہے۔وہ سوموار کی شام اچانک وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے بنی گالہ میں واقع اپنی رہائش گاہ کی جانب چلے گئے تھے جس کے بعد مختلف چہ میگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔

یہ توقع کی جارہی تھی کہ عمران خان مخدوم جاوید ہاشمی کی جانب سے اپنی ذات پر لگائے جانے والے سنگین نوعیت کے الزامات کا جواب دیں گے لیکن انھوں نے تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے فیصلے اور ریڈ زون سے وزیراعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا اور صرف چیف جسٹس پاکستان جسٹس ناصر الملک کے حوالے سے کہا کہ ''میری ان سے ایک ہی مرتبہ ملاقات ہوئی ہے اور وہ نفیس آدمی ہیں''۔

انھوں نے اپنی تقریر میں قرآنی آیات کے بھی حوالے دیے اور اپنے کارکنوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی وہ ایک نئے اور بہتر پاکستان کے لیے یہ تحریک چلا رہے ہیں۔انھوں نے اپنی تقریر میں وزیراعظم میاں نوازشریف پر الزام عاید کیا کہ وہ ملک کو تباہ کر دیا ہے اور اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام آباد میں تین انسپکٹرز جنرل کو تبدیل کیا گیا ہے جبکہ ڈھائی ہزار پولیس اہکاروں نے ان کے احکامات کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف فوج کو بدنام کررہے ہیں۔انھوں نے سیاست دانوں میں رقوم بانٹیں اور پلاٹوں کی سیاست کو فروغ دیا۔انھوں نے صحافیوں کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے لفافہ جرنلزم کو فروغ دیا اور حال ہی انٹیلی جنس بیورو ( آئی بی) نے ڈھائی سو کروڑ روپے لوگوں کے ضمیر خریدنے کے لیے دیے ہیں۔میاں نواز شریف نے پیسہ بنانے کے لیے ملک کو تباہ کیا ہے اور سابق صدر آصف زرداری سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔انھوں نے قرض اتارو ملک سنوارو کا آج تک پتا نہیں چل سکا''۔

انھوں نے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کو مخاطب ہوکر انھیں فیلڈ مارشل قرار دیا اور کہا کہ آپ نے لوگوں پر فائرنگ کرائی تھی لیکن اب ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔انھوں نے پولیس کا مقابلہ کرنے پر اپنے اور اپنی اتحادی جماعت عوامی تحریک کے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

واضح رہے کہ ان دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا کہ انھوں نے ایک ریاستی ادارے پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا اور اس کے دو چینلوں کی نشریات زبردستی بند کرادی تھیں ،توڑ پھوڑ کی تھی اور وہاں سے آلات چوری کرکے لے گئے تھے۔عمران خان نے اپنی تقریر میں اس افسوس ناک واقعے کے بارے میں ایک لفظ بھی بول کے نہیں دیا ہے اور نہ اس کی مذمت کی ہے۔پی ٹی وی کی عمارت پر حملے کے الزام میں عمران خان اور ان کے احتجاجی اتحادی ڈاکٹر طاہرالقادری پر بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

کوئی استعفیٰ نہیں

قبل ازیں وزیراعظم میاں نواز شریف کے زیر صدارت حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں کا اجلاس ہوا جس میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی قرارداد کے بعد اب استعفیٰ دینا ان کے اختیار میں نہیں رہا ہے۔

اس اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف استعفیٰ دے رہے ہیں اور نہ وہ کسی رخصت پر جارہے ہیں۔شرکاء نے منگل کو بلائے جانے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو جمعہ تک جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا ردعمل

پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے مخدوم جاوید ہاشمی کے تہلکہ خیز الزامات و انکشافات کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے جس میں دوٹوک الفاظ میں اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ اسلام آباد میں جاری بحران میں آرمی اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا کوئی ہاتھ کارفرما ہے اور وہ پاکستان تحریک انصاف یا پاکستان عوامی تحریک کی کسی طرح کی کوئی پشت پناہی کررہے ہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ''آرمی ایک غیر سیاسی ادارہ ہے اور اس نے متعدد مواقع پر جمہوریت کی غیر متزلزل حمایت کی ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ فوج کو ان تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے''۔

آئی ایس پی آر نے اس سے پہلے یہ وضاحت جاری کی تھی کہ آرمی چیف نے وزیراعظم میاں نواز شریف کو مستعفی ہونے کا کوئی مشورہ نہیں دیا ہے۔ پاکستان کے بعض میڈیا اداروں کے صحافیوں نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے اپنی خواہشات پر مبنی یہ خبر جاری کی تھی کہ جنرل راحیل شریف نے بحران کے حل کے لیے میاں نواز شریف سے مستعفی ہونے کے لیے کہا ہے۔