.

سیاسی بحران: چینی صدر کا دورۂ پاکستان منسوخ

اسلام آباد میں دھرنا دینے والی دونوں جماعتوں کا بڑا مقصد پورا ہوگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے صدر ژی جین پنگ نے اسلام آباد میں دو احتجاجی جماعتوں کے جاری دھرنوں سے پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظرپاکستان کا اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا ہے۔

صدر ژی کے دورے کی منسوخی کا فیصلہ چین کی سکیورٹی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے۔اس ٹیم نے صدر کے پاکستان کے دورے کے لیے سکیورٹی کلیئرینس نہیں دی ہے۔

اسلام آباد میں دو جماعتوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے 14 اگست سے جاری دھرنوں کے پیش نظر چینی صدر کی پاکستان کی قیادت کے ساتھ لاہور میں ملاقاتوں کی تجویز دی گئی تھی لیکن چین کی سکیورٹی ٹیم نے اس تجویز سے بھی اتفاق نہیں کیا ہے اورصدر ژی کے دورہ پاکستان کے لیے سکیورٹی کلیئرینس نہیں دی ہے۔

چینی صدراسی ماہ سری لنکا اور بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔اس تناظر میں تجزیہ کاروں کے نزدیک ان کے پاکستان کے دوسرے کی منسوخی میاں نوازشریف کی حکومت کے لیے ایک بڑی سُبکی کا سبب بنی ہے۔قبل ازیں مذکورہ دونوں جماعتوں کے احتجاجی دھرنوں کے سبب سری لنکا اور مالدیپ کے صدور بھی پاکستان کے اپنے طے شدہ دورے منسوخ کر چکے ہیں۔

میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے والی ایک جماعت پی اے ٹی کے سربراہ علامہ طاہرالقادری کینیڈا کے بھی شہری ہیں۔ان کی احتجاجی سیاست کے حوالے سے صحافتی حلقوں میں یہ کہا جارہا ہے کہ وہ کسی کے اشارے پر یہ سب کچھ کررہے ہیں اور یہ تمام احتجاجی تحریک ایک گرینڈ پلان کا حصہ ہے جس کا ایک مقصد چینی صدر کے پاکستان کے دورے کو منسوخ کرانا تھا اور وہ اس میں کامیاب رہے ہیں۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری نے پاکستانی اور چینی حکومت کی صدر ژی کے دورے کے لیے کوششوں کو سبوتاژ کردیا ہے۔ان دونوں لیڈروں کو پاکستانی قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔انھوں نے چینی صدر کے دورے کی منسوخی پر دونوں احتجاجی لیڈروں کو طنزیہ انداز میں مبارک باد دی ہے۔

واضح رہے کہ چینی صدر کے دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان بتیس ارب ڈالرز مالیت کے مختلف منصوبوں سے متعلق معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہونا تھے۔ان میں پاکستان میں توانائی کے بدترین بحران پر قابو پانے کے لیے بجلی کی پیداوار کے منصوبے بھی شامل تھے۔اس کے علاوہ گوادر کو جلد فنکشنل بنانے سے متعلق منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے تھے لیکن دورے کی منسوخی کے ساتھ یہ منصوبے بھی التوا کا شکار ہوگئے ہیں اور ان میں بعض منصوبے چین اب ختم بھی کرسکتا ہے۔

علامہ طاہر القادری اور ان کے احتجاجی اتحادی عمران خان کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ جن قوتوں کے اشارے پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں،ان کا حقیقی مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو چین کے نزدیک آنے سے روکا جائے کیونکہ امریکا کا مفاد اسی میں تھا۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے امریکا نواز حصے کی بھی ان دونوں احتجاجی لیڈروں کو حمایت حاصل رہی ہے اور اس کا بھانڈا پی ٹی آئی کے ناراض صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے پارلیمان اور نیوزکانفرنسوں میں پھوڑ دیا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے دوپڑوسی ممالک کے بارے میں بھی یہ چہ میگوئیاں کی جاتی رہی ہیں کہ وہ وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے لندن میں طے شدہ اس منصوبے کا حصہ تھے اور ان کا ایک مقصد یہ تھا کہ گوادر کی بندرگاہ کو جلد فنکشنل ہونے کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی جائیں کیونکہ اس طرح خود ان کی دو بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں ماند پڑنے کا خدشہ ہے۔