.

پنجاب : طوفانی بارشوں سے تباہی ،50 جاں بحق

صوبے میں بہنے والے دریاؤں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے بڑے صوبہ پنجاب میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں پچاس سے زیادہ افراد جاں بحق اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں جبکہ صوبے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران موسلا دھار بارش کے نتیجے میں متعدد مکانات منہدم ہوگئے ہیں،ان کی چھتیں گر گئی ہیں۔شہر کے مختلف حصوں میں مکانات گرنے یا بجلی کے جھٹکے لگنے سے پچیس افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

پنجاب کی ریسکیو سروسز 1122 کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور صحافیوں کو بتایا ہے کہ زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ ملبوں تلے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ صوبے بھر سے مکانات، عمارتیں گرنے اور دیگر حادثات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مون سون بارشوں کے نتیجے میں پیش آنے والے حادثات میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے پانچ، پانچ لاکھ روپے اور زخمی افراد کے لیے ایک، ایک لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے بہ ذات خود لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے۔

لاہور میں بدھ سے جاری بارش سے کم وبیش تمام سڑکیں زیر آب آگئی ہیں اور نشیبی علاقوں میں دوسے چار فٹ تک پانی کھڑا ہوگیا ہے۔بارش کی وجہ سے لاہور سے اندرون اور بیرون ملک معمول کی پروازوں اور ٹرینوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔

صوبے کے اضلاع گوجرانوالہ ،سیالکوٹ ،نارووال ،فیصل آباد اورخانیوال میں بھی مکانوں کی چھتیں گرنے ،دیواریں منہدم ہونے اور بجلی کے جھٹکوں کے واقعات میں بیس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔پاکستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں بہنے والے تمام دریاؤں میں آیندہ دو سے تین روز میں مون سون کی ان بارشوں کے نتیجے میں بلند سطح کے سیلاب کا خطرہ ہے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر سے پنجاب میں داخل ہونے والے دریائے چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب سے گوجرانوالہ ،سیالکوٹ ، گجرات اور حافظ آباد کے علاقوں میں تباہی کا خطرہ ہے اور فوج کو بھی کسی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں وکشمیر میں بھی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں سیلاب اور تباہی سے دس افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق دریائے نیلم اور جہلم میں آزاد کشمیر کے مختلف مقامات پر سیلاب کا خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گذشتہ چار سال سے مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں سیلاب آرہے ہیں۔2013ء میں سیلاب میں 178 افراد جاں بحق ہوگئے تھے اور قریباً پندرہ لاکھ بے گھر ہوئے تھے۔2010ء میں ملک کی تاریخ کا تباہ کن سیلاب آیا تھا اور اس میں صوبہ خیبر پختونخوا ،پنجاب اور سندھ میں ایک ہزار آٹھ سو افراد جاں بحق اور اکیس لاکھ بے گھر ہوگئے تھے۔ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی تھیں۔