.

مشکوک باؤلنگ ایکشن، سعید اجمل پر پابندی عاید

بین الاقوامی میچوں میں باؤلنگ نہیں کراسکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کے اسٹار اسپن باؤلر سعید اجمل کے گیند کرانے کے انداز کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے جس کے بعد وہ عالمی سطح کے میچوں میں اب باؤلنگ نہیں کراسکیں گے۔

آئی سی سی نے برسبین آسٹریلیا سے سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن سے متعلق رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کا جائزہ لیا ہے ۔ اس کی روشنی میں ان کے ''دوسرا'' بال کے علاوہ گیند کرانے کے ہر طرح کے انداز کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور ان پر فوری طور پر بین الاقوامی سطح کی کرکٹ میں باؤلنگ پر پابندی عاید کردی ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''سعید اجمل کے گیند کرانے کے انداز کے جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ انھوں نے جتنی بھی گیندیں پھینکیں ،وہ پندرہ ڈگری سے ماورا تھیں''۔آئی سی سی کے قواعد وضوابط کے تحت ایک باؤلر کو پندرہ ڈگری زاویے تک بازو کو گھمانے کی اجازت ہے۔اس سے زیادہ نہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے حالیہ دورۂ سری لنکا میں گال میں کھیلے گئے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوران فیلڈ ایمپائروں آئن گولڈ اور بروس آکسنفورڈ نے سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کو مشکوک قرار دیا تھا۔

اس کے بعد وہ آسٹریلیا گئے تھے جہاں برسبین میں واقع آسٹریلیا کے نیشنل کرکٹ سنٹر میں ان کے باؤلنگ ایکشن کا ٹیسٹ ہوا تھا۔36 سالہ سعید اجمل نے پاکستان کی جانب سے اب تک 111 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں اور 183 وکٹیں حاصل کی ہیں۔انھوں نے 35 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں اور ان میں 178 وکٹیں لی ہیں۔

وہ دنیا کے ان پانچ باؤلروں میں سے ایک ہیں جن کے گیند کرانے کے انداز کو مشکوک قرار دیا گیا ہے اور ان کے ٹیسٹ لیے گئے ہیں۔سعید اجمل کے مخصوص ''دوسرا'' بال کرانے کے انداز کو ماضی میں بھی مشکوک قرار دیا جاتا رہا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ مقررہ حد سے زیادہ بازو اور کہنی کو گھما دیتے ہیں۔

آئی سی سی کے موجودہ قوانین کے تحت ایک باؤلر اپنے کہنی اور گھٹنے کو 15 ڈگری تک جھکا سکتے ہیں۔یہ قانون بہت سے باؤلروں کے مشکوک ایکشن کی وجہ سے متعارف کرایا گیا تھا۔ان میں سری لنکا کے مطیح مرلی دھرن نمایاں تھے جو ایک مخصوص انداز میں کہنی کو گھماتے ہوئے گیند کراتے تھے لیکن ٹیسٹوں کے بعد یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ ان کی کمر میں قدرتی طور مخصوص لچک ہے جس کی وجہ سے وہ اس انداز میں بال کراتے ہیں۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ سعید اجمل کے مشکوک باؤلنگ ایکشن پر انھیں ٹیسٹ کرانے کے لیے کہا گیا تھا بلکہ اس سے پہلے 2009ء میں بھی دبئی میں آسٹریلیا کے خلاف ایک روز بین الاقوامی میچوں کی سیریز کے دوران اپنے انداز کا ٹیسٹ کرانے کے لیے کہا گیا تھا لیکن تب وہ اس امتحان میں کامیاب ٹھہرے تھے اور یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا نے ان کے ''دوسرا'' پھینکنے کے انداز کو درست قرار دیا تھا۔بلے بازوں کے خلاف ان کا یہی سب سے کامیاب اور موثر ہتھیار ہے جس کی بدولت وہ پہلے انھیں پریشان کرتے اور پھرآؤٹ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔