دھرنوں کا مستقبل غیر واضح، استعفے اور نافرمانی ناکام

دو جماعتوں نے دھرنا نہیں اسلام آباد پر لشکر کشی کر رکھی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان میں پچھلے سال ہونے والے عام انتخابات میں تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی 22 روز پہلے سامنے آنے والی سول نافرمانی کی تحریک عملاً عمران خان تک محدود پارلیمانی اداروں سے استعفوں کا فیصلہ صرف ناراض اور باغی صدر جاوید ہاشمی تک محدود ہو گیا۔ عمران خان نے بجلی کا بلا ادا نہ کیا اور جاوید ہاشمی پارلیمنٹ سے استعفا دے کر گھر چلے گئے۔ باقی سبھی ارکان کے استعفے معلق، اور مشاہرے ٹیکسوں کی کٹوتی کے بعد بنکوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب پارلیمنٹ کا طویل ترین مشترکہ اجلاس منعقد کرنے والی حکومت اب دونوں دھرنا پارٹیوں کے بارے میں پارلیمنٹ سے فیصلہ لینے کے لیے تیار نطر آ رہی ہے۔ صوبہ خیبر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک اور سپیکر اسد قیصر کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے بدھ کے روز جاری کیے گئے نوٹسز کو بھی حکومتی بنچ بنیاد بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

پارلیمنٹ کی طرف سے سخت کارروائی کی سفارش کی صورت میں سول نافرمانی کا اعلان کرنے والی قیادت اور اس پر عمل کرنے والے رہنماوں و دیگر افراد کے خلاف آئینی اور قانونی کارروائی کا امکان ہو سکتا ہے۔ اس امکان کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جار ہا ہے کہ اگر پارلیمنٹ چاہے تو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ڈی چوک اور شاہراہ دستور کو خالی کرایا جا سکتا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کی باضابطہ قرار داد حکومت ضروری سمجھے گی۔

وزیر خزانہ سینٹر اسحاق ڈار نے بدھ کے روز پارلیمنٹ کو دونوں دھرنا جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا حکومت پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق وزیر اعظم مستعفی نہیں ہوں گے۔ وزیر ریلوے سعد رفیق نے شاہراہ دستور پر دھرنوں کو لشکر کشی، دھاوا اور گھیراو کا نام دیا۔ خیال رہے مسلم لیگ نواز ان دھرنوں کو آئین کے آرٹیکل چار اور پانچ کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔
تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی پارلیمان سے استعفے دینے کے بعد نہ صرف استعفوں پر عمل درآمد کو طوالت کا شکار دیکھنے کے خواشمند ہیں جبکہ متعدد ارکان نے پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں میں استعفے جمع کرنے کے بعد بھی ماہانہ مشاہرہ وصول کر لیا ہے۔

واضح رہے پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے 28 ارکان نے استعفے تو اسمبلی سیکرٹیریٹ میں جمع کرائے جا چکے ہیں لیکن جب ماہ اگست کی بابت ارکان اسمبلی کے مشاہرہ جات کی ادائیگی کا وقت آیا تو معمول کے مطابق،ٹیکس کاٹے گئے۔

ٹیکس کاٹے جانے کے بعد رکان کی تنخواہیں ارکان کے بنک اکاؤنٹس میں گئیں تو تحریک انصاف کے کسی بھی رکن نے کوئی اعتراض نہ کیا یوں تحریکِ انصاف کےارکان پنجاب اسمبلی استعفے جمع کرانے کے بعد بھی پوری تنخواہیں اور بھرپور مراعات انجوائے کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی کےارکان سے رابطہ کیا تو ان کے پاس کوئی نہ کوئ جواز یا دلیل موجود نہ تھی۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 18 اگست کو دھرنے سے خطاب کے دوران قوم سے سول نافرمانی کی اپیل کرتے ہوئے سول نافرمانی کا اعلان کیا تھا۔

اپنی اعلان کردہ سول نافرمانی کے حوالے سے چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نسبتا سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کے بنی گالہ محل میں لگے ٹیوب ویل سمیت گھر مین استعمال ہونے والی بجلی کا بل ادا نہیں کیا ہے۔

تحریک انصاف اور اس کے حلیف علامہ طاہرالقادری کا دھرنا کامیاب ہوتا ہے یا نہیں اور اسے ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ کیا حکمت عملی طے کرتی ہے اس سے قطع نظر یہ طے ہو چکا ہے کہ عمران خان کی سول نافرمانی کی تحریک اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے اعلانات تحریک انصاف میں بھی پذیرائی نہیں پا سکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں