.

عمران خان کا ہفتے کو اہم انکشافات کا اعلان

احتجاجی دھرنے کا ایک مہینہ پورا ہونے پر گرینڈ شو کا وعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مرکز میں دھرنا دینے والے احتجاجی لیڈر عمران خان روز نت نئے اعلانات کرتے ہیں۔وہ اپنی دھواں دار تقاریر میں ارباب اقتدار وسیاست کی بدعنوانیوں اور گذشتہ سال منعقدہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے انکشافات کرتے رہتے ہیں۔اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بدھ کی رات اپنی تقریر میں انھوں نے ہفتے کے روز ایک بڑا انکشاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جز وقتی (پارٹ ٹائم) دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کے روز ان کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک اور مارچ کو ایک ماہ پورا ہوجائے گا اور وہ موقع کی مناسبت سے اہم اعلان کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ''یہ اقتدار کی جنگ نہیں ہے بلکہ حاکم اور محکوم کی جنگ ہے۔ہم جبرو استبداد کے خلاف سخت جنگ لڑیں گے''۔انھوں نے الزام عاید کیا کہ عوام کو لوٹنے والے لوگ اب ان کے پُرامن دھرنے کے خلاف صف آراء ہوچکے ہیں''۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم نواز شریف سے انتخابات میں دھاندلیوں پرمستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے وفاقی وزراء کے اس دعوے کو تنقید کو نشانہ بنایا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عمران خان اور ان کے احتجاجی اتحادی ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے نتیجے میں قومی معیشت کو ایک کھرب روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔انھوں نے اس الزام کی تحقیقات کی مطالبہ کیا ہے۔

عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنے پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ بجلی کے بل ادا نہ کریں حالانکہ انھوں نے خود اسلام آباد کے علاقے بنی گالا میں واقع اپنے گھر کا بجلی کا بل ادا کردیا ہے۔البتہ لاہور کے گھر کا بل ادا نہیں کیا ہے۔

عمران خان اور ان کے انقلابی بھائی ڈاکٹر طاہر القادری ایک جانب تو ڈی چوک اور شاہراہ دستور پر دھرنا دینے والے اپنے حامیوں سے تندوتیز تقاریر کررہے ہیں اور دوسری جانب ان کے مذاکرات کاروں کی وفاقی وزراء کے ساتھ بات چیت بھی جاری ہے۔فریقین کے درمیان اب تک مذاکرات کے چودہ ادوار ہوچکے ہیں لیکن ان میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

البتہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پانچ نکات پر اتفاق رائے ہوچکا ہے۔صرف وزیراعظم نوازشریف کے استعفے پر اختلاف ہے اور حکومت اس پر کوئی بات نہیں کرے گی جبکہ پی ٹی آئی وزیراعظم کے استعفے پر ہی اصرار کررہی ہے۔

پی ٹی آئی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات اب حساس مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں اور وہ جلد بحران کے حل کے لیے کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔انھوں نے اس کی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔

وفاقی وزراء کے پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں اور فریقین کے نمائندوں نے اسلام آباد میں سابق وزیر داخلہ سینیٹر عبدالرحمان ملک کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔اس کے بعد وفاقی وزیر احسن اقبال نے صحافیوں کو بتایا کہ ماڈل ٹاؤن واقعہ کی ایف آئی آر پی اے ٹی کی خواہشات کے مطابق درج کی جا چکی ہے۔انھوں نے توقع ظاہر کی کہ اس کی شفاف تحقیقات جلد شروع کردی جائے گی۔

دوسری جانب پی اے ٹی کے صدر رحیق عباسی نے کہا ہے کہ ''وزیراعلیٰ شہباز شریف کے اقتدار میں رہنے کی صورت میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں اپنی جماعت کے کارکنوں کے قتل کے واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کا امکان نہیں''۔ڈاکٹر طاہر القادری بھی عمران خان کی طرح وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ تاہم مذاکراتی عمل میں شریک وزراء ان کے اس مطالبے کو یکسر مسترد کرچکے ہیں۔