.

پاکستان: چھ برسوں میں پہلی بار پھانسی کی سزا پر عمل درآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک پاکستانی عدالت نے سزائے موت کے ایک مجرم کی سزا پر اگلے ہفتے عمل درآمد کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ چھ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سویلین شخص کی سزائے موت پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔

سن 2008ء سے پاکستان نے اپنے ہاں سزائے موت کے سویلین مجرموں کو پھانسی پر نہ دینے پر ایک طرح سے پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اس دوران نومبر سن 2012ء میں کورٹ مارشل کے ایک فوجی مجرم کو تختہء دار پر لٹکایا گیا تھا، جب کہ کسی سویلین مجرم کو پھانسی نہیں دی گئی۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق شعیب سرور نامی اس مجرم کو جولائی سن 1998ء میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے جنوری 1996ء میں اویس نواز نامی ایک شخص کو قتل کر دیا تھا۔ ایک مقامی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ عدالت کے حکم کے مطابق اس مجرم کی سزا پر عمل درآمد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 18 ستمبر کو کیا جائے گا۔
سرور نے اپنی سزا کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیلیں دائر کی تھیں، تاہم وہ سب مسترد ہو گئیں، جب کہ اس کی جانب سے صدر پاکستان سے رحم کی اپیل پر رد ہو گئی۔

شعیب سرور اس وقت دارالحکومت اسلام آباد سے 25 کلومیٹر دور ملک کے شمال مغربی علاقے ہری پور کی ایک جیل میں قید ہے، تاہم حکام نے فی الحال اسے اس عدالتی حکم نامے سے متعلق آگاہ نہیں کیا ہے۔

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اس مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد کے حکم نامے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے، ’’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان حکومت کو یہ یاد دلانا چاہتا ہے کہ سن 2008ء میں سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی جن وجوہات کی بنا پر عائد کی گئی تھی، وہ وجوہات اب تک موجود ہیں۔‘‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’اس میں قوانین میں موجود سقم، انصاف کے نظام میں خامیاں، تفتیشی طریقوں کی خرابیاں اور نظام میں موجود بدعنوانی جیسی وجوہات شامل ہیں۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ گذشتہ برس بر سر اقتدار آنے والے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت نے جرائم پیشہ عناصر اور اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے حکومتی فیصلے پر تنقید کے بعد اسلام آباد حکومت نے فیصلے کے دو ہفتے بعد ہی اس پابندی میں عبوری توسیع کا اعلان کیا تھا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس یورپی یونین نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے سزائے موت پر عمل درآمد دوبارہ شروع کیا، تو وہ پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ختم کر سکتی ہے۔