مارشل لا لگا تو بڑی بغاوت ہوگی: جاوید ہاشمی

مبینہ اسکرپٹ کا فوج اور آئی ایس آئی کو تو پتا بھی نہیں ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسلام آباد میں وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف دھرنا دینے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے برطرف صدر اور کہنہ مشق سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ دھرنوں کا کوئی انجام نہیں ہوگا لیکن اگر اب مارشل لا آیا تو بہت بڑی بغاوت ہو گی اور ملک خاکم بدہن ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتا ہے۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے اتوار کو اپنے آبائی شہر ملتان میں ایک نیوز کانفرنس کی ہے اور اس میں عمران خان کی دھرنا سیاست کے حوالے سے کچھ مزید انکشافات کیے ہیں۔انھوں نے اپنی جماعت کے دو سینیر لیڈروں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے بارے میں کہا کہ وہ وزیراعظم بننے کے لیے تیار بیٹھے ہیں لیکن پی ٹی آئی میں عمران خان کے وزیراعظم بننے کی کوئی بات نہیں کررہا ہے کیونکہ وہ پٹھان ہیں اور ظالموں نے بھی خان صاحب کی واپسی کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا ہے۔

انھوں نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی اور اس کی احتجاجی اتحادی پاکستان عوامی تحریک کے دھرنوں کے مبینہ اسکرپٹ کے حوالے سے کہا کہ ''اس کا پاک فوج اور اس کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) کو تو پتا بھی نہیں ہو گا لیکن بعض ریٹائرڈ جرنیل بہت عجلت میں ہیں اور جو کچھ ہورہا ہے میں اس کو اسکرپٹ نہیں کہتا''۔

انھوں نے کہا کہ آب پارہ میں کنٹینر میں بیٹھ کر فیصلہ کیا گیا تھا کہ پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے نہیں جائیں گے لیکن اس کے باوجود عمران خان نے دھرنے کو ریڈ زون میں منتقل کرنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ یہ کورکمیٹی کا فیصلہ ہے حالانکہ اس کمیٹی نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔

جاوید ہاشمی نے انکشاف کیا:''اعجاز شاہ نے کہا تھا کہ نواز شریف استعفیٰ نہیں دیں گے مگرعمران خان نے کہا کہ سب طے ہوچکا ہے، سپریم کورٹ تین ماہ میں الیکشن کرانے کا اعلان کردے گی''۔ جاوید ہاشمی نے دونوں احتجاجی لیڈروں عمران خان اور طاہرالقادری کے درمیان وچولڑے کا کردار ادا کرنے والے سیاست دان شیخ رشید احمد کے حوالے سے کہا:''انھوں نے فرمایا تھا کہ فوج والے عدالت جائیں گے، ٹیکنوکریٹس کی حکومت کا اعلان ہو گا،نواز شریف استعفیٰ دیں یا نہ دیں،انھیں فارغ کردیا جائےگا''۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کبھی کوئی اور کبھی کوئی فیصلہ کرتے ہیں، ان کا کون سا فیصلہ مانا جائے۔انھیں قوم کے سامنے صاف شفاف ہوکر سامنے آنا چاہیے اور یہ واضح کرنا چاہیے کہ ان کے فیصلے اشاروں کا نتیجہ نہیں ہیں۔مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ انھیں عمران خان اور دوسرے لیڈروں کی جانب سے حقائق کو مسخ کرنے پر صدمہ پہنچا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ''آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل نے دس دن پہلے مجھ سے کہا تھا کہ آج کی رات آخری ہے، میں نے ان سے کہا کہ جنرل صاحب تھوڑا سا رحم کریں''۔

انھوں نے کہا کہ وہ ابھی تک پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کی جانب سے شوکاز نوٹس کے منتظر ہیں اور وہ اس کا بھرپور تحریری جواب دیں گے۔وہ چاہیں گے کہ جماعت کی تمام قیادت ان سے جب ملے تو آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرے۔

اسلام آباد کی سڑکوں پر گھن گرج ،ہلے گلے اور توڑ پھوڑ کی احتجاجی سیاست کرنے والی جماعت پی ٹی آئی کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے ہفتہ عشرہ قبل بغاوت کردی تھی۔انھوں نے بہت سے انکشافات کیے یں اور موجودہ بحران کے پیچھے کارفرما کئی پس پردہ چہروں کے نقاب الٹ دیے تھے۔انھوں نے عمران خان کی سیاست سے متعلق کئی رازوں سے پردہ اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ وہ آزادی مارچ کسی کے اشارے اور یقین دہانی پر کررہے ہیں۔

پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے گذشتہ ایک ماہ سے جاری دھرنے کے باوجود ابھی تک عمران خان صاحب اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور ان کے باربار کے اعلانات اور مطالبے کے باوجود نہ تو کسی تھرڈ امپائر نے حکومت کے خاتمے کے لیے انگلی کھڑی کی ہے اور نہ ہی وزیراعظم نواز شریف خان صاحب کے روز بُرا بھلا کہنے کے باوجود مستعفی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں