.

ضربِ عضب:پاک فوج کے حملے، 15 جنگجو ہلاک

شمالی وزیرستان میں بارود سے لدی 10 گاڑیاں اور جنگجوؤں کے 5 ٹھکانے تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی نے لڑاکا ہیلی کاپٹروں سے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران حملے کیے ہیں جن کے نتیجے پندرہ مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاک آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے تبئی میں لڑاکا ہیلی کاپٹروں سے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ان کی بمباری سے بارود سے لدی دس گاڑیاں اور جنگجوؤں کے پانچ ٹھکانے بھی تباہ کردیے گئے ہیں۔

پاک فوج شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے 15 جون سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔اس دوران اب تک غیر ملکیوں سمیت ایک ہزار سے زیادہ مشتبہ جنگجو مارے جاچکے ہیں اور ان کی بارودی سرنگیں تیارکرنے والی متعدد فیکٹریاں تباہ کی جاچکی ہیں۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ہائی کمشنر نے کے مطابق شمالی وزیرستان میں گذشتہ تین ماہ میں آپریشن ضربِ عضب کے دوران دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

درایں اثناء افغانستان میں نیٹو کے تحت عالمی سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) کے کمانڈر جنرل جان کیمپبل نے جنرل ہیڈکوارٹرز راول پنڈی میں چیف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی ہے اور ان سے آپریشن ضربِ عضب ،پاک افغان سرحد پر روابط کو مربوط بنانے سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

جنرل کیمپبل کا ایساف کی کمان سنبھالنے کے بعد جی ایچ کیو کا یہ پہلا دورہ ہے۔انھیں 26 اگست کو جنرل جوزف ایف ڈنفورڈ جونئیر کی جگہ افغانستان میں امریکی فورسز کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا اور انھوں نے نیٹو کے تحت ایساف کی کمان بھی سنبھال لی ہے۔