عمران خان پارٹی کارکنوں کو پولیس تحویل سے چھڑا لے گئے

نیا پاکستان بنانے کے دعویداروں کی نئی قانون شکنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان رات گئے اپنی جماعت پی ٹی آئی کے زیرحراست ملزمان کو پولیس سے چھڑا کر اپنی رہائش گاہ بنی گالہ چلے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ویسے تو عمران خان صبح صبح دھرنا چھوڑ کر گھر چلے جاتے ہیں مگر اتوار کو وہ رات گئے ہی دھرنے سے چلے گئے۔ کچھ دیر بعد پتا چلا کہ عمران خان پولیس کی تحویل سے تحریک انصاف کے ملزمان کو زبر دستی چھڑا کر لے گئے ہیں جس کی تصدیق منظر عام پر آنے والی وڈیو سے بھی ہو گئی۔

عمران خان اور انکے ساتھ موجود کارکنوں نے پولیس اہلکاروں پر دھونس جمائی اور زبردستی چابیاں چھین کر اپنے ساتھیوں کی ہتھکڑیاں کھولیں اور آزاد کرا لیا۔ عمران خان مسلسل اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں پر برستے رہے اور ان کے کارکن قانون کے نافذ کرنے والوں کو دھمکیا ں دیتے رہے۔ کچھ پولیس اہلکاروں نے عمران خان سے التجا کی کہ وہ مجبور ہیں اور اپنا کام انجام دے رہے ہیں مگر عمران خان نے ایک نہ سنی۔ الٹا عمران خان پولیس کو قانون کا سبق پڑھانے لگے۔ کہا کہ تم قانون توڑ رہے ہو۔ قانون پر امن لوگوں کو پکڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ قانون کی تشریح سننے کے بعد عمران خان کے ایک کارکن نے خان صاحب کو آئی جی پولیس کو فون کرنے کا مشورہ دیا ۔ جس پر عمران خان نے جواب دیا ۔ آئی جی کیا کر ے گا؟

عمران خان کا ایک کارکن تو انھیں قانون کا اعلی حاکم مان کر کہنے لگا خان صاحب پولیس اہلکاروں کو فورا ًسسپینڈ کر دیں۔ لگ بھگ پانچ منٹ کی اس کارروائی میں جب عمران خان اور انکے کارکن اپنے ساتھیوں کی ہتھکڑیاں کھلوا کر مطمئن ہو گئَے تو ایک کارکن نے انھیں یقین دہانی کروائی کہ آپ گاڑی میں بیٹھیں۔ سب ہمارے ساتھ جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں