.

پاک فوج کے فضائی حملوں میں 40 جنگجو ہلاک

شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں متعدد غیرملکی بھی مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں بدھ کو فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے بعض غیرملکیوں سمیت چالیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاک آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقوں دتہ خیل ،کزا مداخیل اور ازرق میں لڑاکا طیاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ان کی بمباری سے جنگجوؤں کے مزید پانچ ٹھکانے تباہ ہو گئے ہیں۔

بیان کے مطابق لڑاکا طیاروں نے دتہ خیل کے شمال میں واقع دیہات نواں کلی اور زرام عصر میں دہشت گردوں اور اسلحہ کے ڈپوؤں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور انھیں تباہ کردیا ہے۔

گذشتہ روز پاکستانی سکیورٹی فورسزنے شمالی وزیرستان میں سرحد پار سے جنگجوؤں کے ایک حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں گیارہ دہشت گرد ہلاک اور فرنٹئیر کور کے تین فوجی شہید ہوگئے تھے۔گذشتہ روز پاک فوج کے جنگی طیاروں نے ایک اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بھی بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں تئیس مشتبہ جنگجو مارے گئے تھے۔

پاک آرمی گذشتہ تین ماہ سے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے نام سے جنگجوؤں کے خلاف بڑی کارروائی کررہی ہے۔پہلے پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے مشتبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کی تھی اور اس کے بعد پاک آرمی نے توپ خانے کے ساتھ زمینی کارروائی شروع کی تھی۔

اس کا کہنا ہے کہ اب تک شمالی وزیرستان کا 80 فی صد سے زیادہ علاقہ دہشت گردوں سے پاک کرایا جاچکا ہے۔ان میں شمالی وزیرستان کا صدرمقام میران شاہ ،تحصیل میرعلی اور دتہ خیل تک 80 کلومیٹر تک کا علاقہ شامل ہے۔آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں گذشتہ تین ماہ سے جاری آپریشن ضربِ عضب میں ایک ہزار سے زیادہ جنگجو مارے جاچکے ہیں اور اس دوران دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔اس کے نتیجے میں طالبان جنگجوؤں کی دہشت گردی کے حملے کرنے کی صلاحیت پر کاری ضرب لگائی گئی ہے اور فوج نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جوابی کارروائیوں کی صلاحیت کے خاتمے کے لیے ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کی بائیس سو سے زیادہ کارروائیاں کی ہیں۔