.

جنرل رضوان اختر آئی ایس آئی کے نئے سربراہ

پاک آرمی کے 6 میجرجنرلز کی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نواز شریف نے پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے قریب سمجھے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کو ملک کے طاقتور خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا نیا ڈائریکٹر جنرل مقرر کردیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹرجنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاک آرمی کے چھے میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے گئی ہے اور ان کا اکتوبر میں ریٹائر ہونے والے افسروں کی جگہ نئے مناصب پر تقرر کیا گیا ہے۔

آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ریٹائر ہورہے ہیں۔ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر 8 اکتوبر کو یہ عہدہ سنبھالیں گے۔وہ اس سے قبل سندھ رینجرز کے سربراہ تھے اور اس سے پہلے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف آپریشن راہ نجات میں بھی پاک فوج کے دستوں کی قیادت کرچکے ہیں۔وہ دہشت گردمخالف جنگ اور انٹیلی جنس کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

آئی ایس آئی کے سربراہ کے علاوہ اکتوبر میں ریٹائر ہونے والے پاک فوج کے اعلیٰ افسروں میں منگلا کے کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق خان،گوجرانوالہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سلیم نواز ،پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی اور کراچی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی شامل ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کے علاوہ میجر جنرل ہلال حسین ،میجر جنرل غیور محمود ،میجر جنرل نذیر بٹ ،میجر جنرل نوید مختار اور میجر جنرل ہدایت الرحمان کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔موخرالذکر لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمان کو پشاور کور کا کمانڈر،نوید مختار کو کراچی کور،ہلال حسین کو منگلا کور ،غیور محمود کو گوجرانوالہ کور کا کمانڈر اور نذیر بٹ کو پاک آرمی کے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کا تقرر وزیراعظم پاکستان آرمی چیف کی سفارش پر کرتاہے۔وزیراعظم میاں نوازشریف نے جنرل راحیل شریف کی سفارش پر ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ ان اعلیٰ افسروں کی ترقیوں ، تقرر اور تعیناتیوں کی منظوری دی ہے۔قانون کے تحت آئی ایس آئی کا سربراہ وزیراعظم کو براہ راست جواب دہ ہوتا ہے۔

آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ ،نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد اور آرمی وار کالج امریکا سے گریجوایٹ ہیں۔انھیں ستمبر 1982ء میں پاکستان آرمی کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن ملا تھا۔وہ فاٹا میں انفینٹری بریگیڈ اور انفینٹری ڈویژن کی کمان کر چکے ہیں۔وہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔وہ ایک پیشہ ور فوجی ہیں اور ایک حاضر سروس افسر کے بہ قول وہ غیر جانبدار ہیں اور ان کی کوئی سیاسی وابستگی یا رجحان نہیں ہے۔

وزارتِ دفاع کے ایک عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ ''وزیراعظم نواز شریف اپنے لیے کوئی اور لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام نہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ انھیں کبھی اپنا آدمی نہیں سمجھتے تھے اور وہ ان کے لیے تشویش کا سبب بنے رہے تھے ،اس لیے وہ آئِی ایس آئی کا ایک ایسا سربراہ چاہتے تھے جس کا کوئی سیاسی رجحان نہ ہو''۔