.

پشاور: بریگیڈئیر پر کار بم حملہ، 4 جاں بحق

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے قافلے پر خودکش کار بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ اس حملے میں ایک خاتون سمیت چار افراد جاں بحق اور چودہ زخمی ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی حکام کی اطلاع کے مطابق بارود سے بھری کار میں سوار طالبان کے خودکش بمبار نے پشاور کے صدر روڈ پر ایف سی کے بریگیڈئیر خالد جاوید کے قافلے کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم وہ اس جان لیوا حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی فضل اللہ گروپ کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف پاک فوج کے جاری آپریشن ضربِ عضب کے ردعمل میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش بم حملہ کیا گیا ہے۔

ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خودکش حملے میں بریگیڈئیر خالد جاوید کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ انھوں نے پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے ارکان کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ایک فوجی افسر کے مطابق بریگیڈئیر خالد جاوید فرنٹئیر کور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ہیں۔پشاور میں ان کا گھر ایک مصروف شاہراہ پر واقع ہے اور وہاں بآسانی پہنچا جاسکتا ہے۔

پشاور کے سی سی پی او اعجاز خان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ خودکش کار بم دھماکے میں مرنے والوں میں ایف سی کا ایک اہلکار ،ایک خاتون اور ایک راہگیر شامل ہے۔ چودہ زخمیوں میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا ہے کہ حملے میں سوزوکی آلٹو کار استعمال کی گئی ہے اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ اب آپریشن ضربِ عضب کے ردعمل میں جنگجوؤں نے اپنی جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

خودکش کار بم دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال اور کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں تین زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل شفقت ملک نے بتایا ہے کہ دھماکے میں پینتالیس کلو گرام بارود استعمال کیا گیا ہے اور اس کی شدت میں اضافے کے لیے مارٹر گولے بھی بارود میں شامل کیے گئے تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں ایک کار، ایک رکشا اور ایک موٹر سائیکل تباہ ہو گئی۔ اس سے قریبی عمارتوں کے کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے اور اس کے ساتھ فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں نے واقعے کے فوری بعد علاقے کا محاصرہ کر لیا اور وہاں شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔