''کشمیر،فلسطین کے تنازعات طے کرائے جائیں''

پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے:نوازشریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ عالمی برادری گذشتہ چھے ،سات عشروں سے تصفیہ طلب کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات کو طے کرائے۔

انھوں نے جمعہ کی شب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔

میاں نوازشریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے باسی گذشتہ چھے عشروں سے جبر واستبداد کی چکی میں پس رہے ہیں لیکن ابھی تک وہاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق استصواب رائے نہیں کرایا گیا۔انھوں نے عالمی برداری پر زوردیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق طے کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرائے۔

انھوں نے بھارت کی جانب سے خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر مذاکرات کو منسوخ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس نے اس طرح دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کا ایک موقع گنوا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ برصغیر پاک وہند کے عوام علاقائی تنازعات کی وجہ سے ترقی اور خوش حالی کے مواقع سے محروم ہوگئے ہیں۔

انھوں نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی حالیہ جارحیت کی مذمت کی اور کہا کہ اس نے جنگ مسلط کرکے فلسطینیوں کی اجتماعی نسل کشی کی کوشش کی ہے۔انھوں نے غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور فلسطینی تنازعے کے حل کی ضرورت پر زوردیا۔

وزیراعظم نے اپنی تقریر کے آغاز میں اجلاس میں شریک عالمی لیڈروں کی توجہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے پاکستان پر اثرات کی جانب مبذول کرائی اور کہا کہ ان کے ملک کو مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے،ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ اور لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے شدید خطرے کا سامنا ہے۔اس کی فوج نے گذشتہ تیرہ سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور ملک کو اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔اس وقت شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی ایک بڑی کارروائی جاری ہے اور پوری قوم فوج کی پشت پناہ ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ کے تحت امن کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان عالمی ادارے کی دنیا بھر میں امن سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور وہ یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔انھوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے امن مشنوں کو تربیت دینے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے دنیا بھر میں امن مشنوں کے تحت خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی جانیں قربان کرنے والے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ایک سو چالیس اہلکاروں نے امن مشنوں کے دوران خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کی اپیل پر پاکستان نے شورش کا شکار ملک جمہوریہ وسطی افریقہ میں اپنے فوجی دستے بھیجے ہیں۔

میاں نواز شریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں امریکا کے نائب صدر جوزف بائیڈن سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔قبل ازیں انھوں نے سیکریٹری جنرل بین کی مون سے بھی ملاقات کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں