.

جہادیوں پرامریکی قدغنیں،پاکستان پابند نہیں

امریکا نے جہادی تنظیموں کو یک طرفہ دہشت گرد قرار دیا :دفترخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے امریکا کی جانب سے دو جہادی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کو یک طرفہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان تنظیموں پر عاید کردہ قدغنوں کی پاسداری کا پابند نہیں ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنی ہفت وار نیوز بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ ''اقوام متحدہ میں کسی فرد یا تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے ایک طریق کار طے ہے لیکن امریکا کی جانب سے پاکستان سے تعلق رکھنے والی دو تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کا ملک پر اطلاق نہیں ہوتا ہے''۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے بدھ کو پاکستان میں قائم دو تنظیموں لشکر طیبہ اور حرکۃ المجاہدین پر پابندیاں عاید کی تھیں اور ان کے لیڈروں کے اثاثے منجمد کر لیے تھے۔امریکا نے ان دونوں تنظیموں کو پہلے ہی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔لشکر طیبہ پر بھارت کے شہر ممبئی میں حملوں کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

امریکی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ منجمد کیے جانے والے اثاثے لشکر طیبہ کی مالی مدد کے لیے استعمال کیے جارہے تھے۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ حرکۃ المجاہدین ایک دہشت گرد گروپ ہے اور وہ بھارت ،پاکستان اور افغانستان میں کام کررہی ہے۔اس نے مشرقی افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت کے لیے کیمپ بھی قائم کررکھے ہیں۔

نوٹی فیکیشن کے مطابق حرکۃ المجاہدین نے 2005ء میں (بھارت کے مقبوضہ) کشمیر میں ایک حملہ کیا تھا جس میں پندرہ افراد مارے گئے تھے اور 2007ء میں اسی علاقے میں اس تنظیم کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں متعدد بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ اب تک امریکی محکمہ خزانہ نے لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے تین اداروں اور ستائیس شخصیات کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر پابندیاں عاید کی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے حرکۃ المجاہدین کے امیر مولانا فضل الرحمان خلیل کے اثاثے منجمد کرلیے ہیں اور دہشت گردی کی معاونت کرنے والے افراد اور اداروں کی فہرست میں لاہور سے تعلق رکھنے والی دو کاروبادی شخصیات محمد نعیم شیخ اور عمیر نعیم شیخ اور ان کے کاروباری ادارے نیا انٹرنیشنل کا نام شامل کر لیا ہے۔ان پر لشکر طیبہ کی مالی معاونت کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے صدر براک اوباما کی بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے ایک روز بعد ان تنظیموں اور ان سے وابستہ شخصیات پر پابندیاں عاید کی ہیں۔ان دونوں لیڈروں نے دہشت گردی میں ملوث گروپوں کے قلع قمع کے لیے مربوط کوششوں اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

امریکا کے انڈرسیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس ڈیوڈ ایس کوہن نے بیان میں کہا ہے کہ ''لشکر طیبہ اور حرکۃ المجاہدین دونوں ہی متشدد دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔وہ جنگجوؤں کی تربیت کرتی ہیں اور القاعدہ سمیت معروف انتہا پسند گروپوں کی سرگرمیوں میں معاونت کرتی ہیں''۔

پاک بھارت تعلقات

دفتر خارجہ کی ترجمان نے سیاچن سے فوجوں کو واپس بلانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت نے ابھی تک اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

بھارت کی جانب سے کشمیر کی قیادت سے پاکستان کی مشاورت سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ تو معمول کا معاملہ تھا اور پاکستان دو طرفہ مذاکرات سے قبل ہمیشہ کشمیری قائدین سے مشاورت کرتا ہے۔

تسنیم اسلم نے اس تاثر کو بھی مسترد کردیا کہ پاکستان اقوام متحدہ میں تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ موقف سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور اس نے یوٹرن لے لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر کے بارے میں قراردادیں اب بھی مؤثر اور قابل عمل ہیں اور شملہ معاہدے نے ان قراردادوں کو غیر مؤثر نہیں کیا تھا۔