.

پشاور میں بم دھماکا،سات افراد جاں بحق

نامعلوم شخص مسافر کوچ میں بم رکھ کر اسٹاپ پر اُتر گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک مسافر کوچ میں بم دھماکے کے نتیجے میں سات افراد جاں بحق اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق پشاور کے علاقے بازید خیل میں کوہاٹ روڈ پر جمعرات کو بم دھماکا ہوا ہے۔زخمیوں اور مرنے والوں کی لاشیں لیڈی ریڈنگ اسپتال میں منتقل کردی گئی ہیں۔اسپتال کے ترجمان جمیل شاہ نے سات ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

مسافر کوچ کے ڈرائیور شاہد الرحمان نے بتایا ہے کہ وہ پشاور سے اَپرکرم ایجنسی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ایک نامعلوم شخص اس کی عقبی نشست پر بیٹھا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک بوسیدہ بیگ تھا۔وہ بازید خیل بس اسٹاپ پر یہ کَہ کر اترگیا کہ وہ اپنے عزیزوں کو لینے جارہا ہے۔جونہی وہ نیچے اترا تو بم دھماکا ہوگیا۔

پولیس نے ڈرائیور کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ اہدافی بم حملہ لگتا ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) شفقت ملک نے بتایا ہے کہ دھماکے میں پانچ کلوگرام بارود استعمال کیا گیا ہے۔

قبل ازیں پشاور میں یاقوت پولیس اسٹیشن کے نزدیک ایک بم حملے کے نتیجے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) آصف محمود جاں بحق ہوگیا۔گذشتہ ہفتے پشاور ہی میں فرنٹیئر کور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل بریگیڈئیر خالد جاوید باجوہ کے قافلے پر خودکش بم حملہ کیا گیا تھا۔وہ اس جان لیوا حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے تھے۔تاہم اس حملے میں ایک خاتون سمیت چار افراد جاں بحق اور چودہ زخمی ہوگئے تھے۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس خودکش کار بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ٹی ٹی پی فضل اللہ گروپ کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ''شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف پاک فوج کے جاری آپریشن ضربِ عضب کے ردعمل میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش بم حملہ کیا گیا ہے''۔ترجمان نے پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے ارکان کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔