.

پاکستانی طالبان نے داعش کی حمایت کردی

مسلمانوں کی داعش سے توقعات وابستہ ہیں:طالبان ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے شام و عراق میں سرگرم انتہاپسند تنظیم داعش کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور خطے میں موجود اپنے جنگجوئوں کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں سرگرم انتہاپسند گروپ کے ارکان کی ہر ممکن مدد کریں۔ پاکستانی طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا "ہمارے بھائیو ہمیں تم پر اور تمھاری فتوحات پر فخر ہے، ہم تمھاری خوشیوں اور پریشانیوں میں تمھارے ساتھ ہیں۔"

طالبان ترجمان کی طرف سے یہ بیان عیدالاضحیٰ کے موقع پر جاری کیا گیا ہے۔ شاہداللہ نے مزید کہا ہے "مشکل حالات میں ہم تمہاری استقامت کے لیے دعا گو ہیں، خصوصا ایسے وقت میں جب تمہارے دشمن متحد ہو گئے ہیں، ہمارے بھائیو! اس موقع پر اپنی تمام مخالفتوں کو پس پشت ڈال دو۔"

بیان میں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "دنیا بھر کے مسلمانوں کو آپ سے بہت ساری توقعات ہیں، ہم تمہارے ساتھ ہیں اس لیے مجاہدین کی صورت میں اور ہر ممکن صورت میں ہم آپ کی مدد کریں گے۔"

واضح رہے یہ بیان اردو، عربی اور پشتو میں جاری کیا گیا ہے اور یہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب داعش نے ایک برطانوی امدادی کارکن ایلن ہیننگ کا سر قلم کیا ہے۔

حالیہ دنوں میں ہی داعش کے پاکستان کے شہر پشاور میں پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ داعش کے پرچم بھارت کے زیر قبضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھی دیکھے گئے ہیں۔

اس سے پہلے مغربی ذرائع داعش اور احرارالہند نامی عسکریت پسند گروپ کے درمیان باہمی تعلقات کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ امریکی اور مغربی سکیورٹی ذرائع اس تناظر میں اپنی داعش مخالف مہم کو آیندہ مہینوں میں افغانستان اور پاکستان میں بھی پھیلانے کی بات کرتے ہیں۔

ادھر پاکستان کے سکیورٹی ذرائع بھی خدشہ محسوس کرتے ہیں کہ افغانستان سے انخلاء کے بعد بھی امریکی اور نیٹو افواج کی کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں اور مسلم دنیا میں دہشت گردی کے خلاف امریکی و مغربی جنگ آیندہ برسوں میں موجود رہے گی جس سے دولت مند مسلم ممالک میں بھی عدم استحکام رہے گا۔