.

شمالی وزیرستان: امریکی ڈرون حملہ، 8 افراد ہلاک

جنوبی اور شمالی وزیرستان کے سنگم پر واقع علاقے میں دوسرا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغرب میں واقع وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے گذشتہ چوبیس گھںٹے میں دوسرا میزائل حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور چھے زخمی ہو گئے ہیں۔

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق امریکی ڈرون نے شمالی وزیرستان کے علاقے منگروٹی میں طالبان کمانڈر حبیب اللہ کے مکان پر دو میزائل فائر کیے ہیں۔حملے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ فوری طور پر امریکی ڈرون حملے میں کمانڈر حبیب اللہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

یہ علاقہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے نزدیک واقع ہے اور یہیں سے جنگجو سرحد کے آرپار آتے جاتے ہیں۔منگروٹی شوال میں واقع ہے اور شوال کا علاقہ جنوبی سے لے کر شمالی وزیرستان تک پھیلا ہوا ہے۔

امریکی ڈرون نے اتوار کو جنوبی وزیرستان کی تحصیل شوال کے علاقے کنڈغر میں ایک مکان پر دو میزائل داغے تھے جس کے نتیجے میں دو غیرملکیوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔کنڈغر کا علاقہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر واقع ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی مخالف ہے۔جون میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق 66 فی صد شہریوں نے ان حملوں کی مخالفت کی تھی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے گذشتہ ہفتے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں اس وقت دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری ہے،اس لیے اس طرح کے حملوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور امریکا یہ حملے بند کردے کیونکہ پاکستان ان کو اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے۔