.

وزیرستان:تین دن میں تیسرا ڈرون حملہ ،7 ہلاک

امریکی ڈرون نے ایک کار اور ایک مکان کو نشانہ بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغرب میں واقع وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے منگل کومسلسل تیسرے دن تیسرا میزائل حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں سات مشتبہ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق امریکی ڈرون نے شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال کے علاقے کنڈغر میں ایک کار اور ایک مکان پردو میزائل داغے ہیں۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر مستقیم کے کمپاؤنڈ کو حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم فوری طور پر مرنے والوں کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی۔

امریکی ڈرون نے سوموار کو شمالی وزیرستان کے علاقے منگروٹی میں طالبان کمانڈر حبیب اللہ کے مکان پر دو میزائل فائر کیے تھے۔اس حملے میں بعض غیرملکیوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔

یہ علاقہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے نزدیک واقع ہے اور یہیں سے کالعدم تحریک طالبان یا دوسرے گروپوں سے وابستہ جنگجو سرحد کے آرپار آتے جاتے ہیں۔منگروٹی شوال میں واقع ہے اور شوال کا علاقہ جنوبی سے لے کر شمالی وزیرستان تک پھیلا ہوا ہے۔

امریکی سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے اتوار کے روز وزیرستان کی تحصیل شوال کے علاقے کنڈغر میں ایک مکان پر دو میزائل داغے تھے جس کے نتیجے میں دو غیرملکیوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔کنڈغر کا علاقہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر واقع ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی مخالف ہے۔جون میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق 66 فی صد شہریوں نے ان حملوں کی مخالفت کی تھی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے گذشتہ ہفتے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں اس وقت دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری ہے،اس لیے اس طرح کے حملوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور امریکا یہ حملے بند کردے کیونکہ پاکستان ان کو اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے۔

لیکن شمالی اور جنوبی وزیرستان میں مذکورہ ڈرون حملوں کے ردعمل میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔امریکی ڈرونز نے یہ میزائل حملے ایسے وقت میں کیے ہیں جب شمالی وزیرستان میں پاکستان آرمی طالبان جنگجوؤں کے خلاف ضربِ عضب کے نام سے گذشتہ پونے چار ماہ سے بڑی کارروائی کررہی ہے۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی سی آئی اے یہ ڈرون حملے ازخود کررہی ہے یا اسے پاکستانی حکام کی خاموش رضامندی حاصل ہے۔