.

بھارت کی بلااشتعال فائرنگ ،دو پاکستانی شہید

بین کی مون کا پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر اظہارتشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں وکشمیر اور پاکستان کے درمیان واقع ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ واقع ضلع سیال کوٹ کے سرحدی دیہات پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کے نتیجے میں جمعرات کو مزید دو افراد شہید ہوگئے ہیں۔

ورکنگ باؤنڈری پر تعینات چناب رینجرز کے ایک افسر نے بتایا ہے کہ گذشتہ چند روز سے بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور توپ خانے سے گولہ باری سے بارہ افراد شہید ہوچکے ہیں اور تینتالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔بھارتی فوج نے ضلع سیال کوٹ کے چارواہ سیکٹر میں واقع گاؤں ہرپال پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص اور ایک خاتون شہید ہوئی ہے۔اس واقعے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جارحانہ فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور صرف فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔پاکستانی فوج کی فائرنگ سے سیال کوٹ کے نزدیک ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فورسز کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

قبل ازیں منگل کو سیال کوٹ کے چپراڑ سیکٹر میں بھارتی فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں تین شہری شہید ہوگئےتھے ۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی سفارت کاروں سے شہریوں کی شہادتوں پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتی فوج نےعیدالاضحیٰ کے دنوں کے تقدس کابھی خیال نہیں کیا ہے اور بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

دوسری جانب بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بین الاقوامی سرحد پر بدھ کی رات فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد سرحد کے دونوں جانب مرنے والوں کی تعداد سترہ ہوگئی ہے۔

بھارتی فوج کی ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر جارحانہ فائرنگ اور گولہ باری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان نئی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پر کشیدگی کے خاتمے تک پاکستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سرحد پر کشیدہ ماحول کے حوالے سے کہا ہے کہ ''تمام معاملات بہت جلد ٹھیک ہوجائیں گے''۔بھارت کے ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ ''اگر فلیگ میٹنگ ہوتی ہے تو یہ ہماری شرط پر ہوگی اور یہ اس وقت ہی ہوگی جب پاکستان فائرنگ کا سلسلہ بند کردے گا جبکہ پاکستان بھارت پر بلااشتعال فائرنگ شروع کرنے کے الزامات عاید کررہا ہے۔

بین کی مون کی تشویش

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے پاکستان اور بھارت کے درمیان قریباً دو سو کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر تشدد آمیز واقعات کے نتیجے میں دوطرفہ کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی خاتون ترجمان وینینا ماسٹراچی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل کو پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافے پر تشویش لاحق ہے۔انھوں نے سرحد کے دونوں جانب انسانی جانوں کے ضیاع اور گولہ باری کے نتیجے میں شہریوں کی گھروں سے بے دخلی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

درایں اثناء پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہا ہے کہ ان کی مسلح افواج سرحد پر بھارتی فوج کی بلااشتعال کارروائیوں کا مسکت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن ہم سرحدوں پر صورت حال کو مزید کشیدہ ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔انھوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔

انھوں نے یہ بیان بھارتی وزیردفاع ارون جیٹلی کی دھمکی کے جواب میں دیا ہے جس میں انھوں نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ سرحد پار گولہ باری بند کردے۔انھوں نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''اگر مہم جوئی جاری رہتی ہے تو ہماری فورسز اس کے جواب میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گی''۔