.

ملتان: پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد بھگدڑ ،7 جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر ملتان میں منعقدہ جلسے کے بعد بھگدڑ مچ گئی ہے جس کے نتیجے میں سات افراد جاں بحق اور تینتالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

ملتان کے قاسم باغ اسٹیڈیم میں جمعہ کی شام پی ٹی آئی کے جلسے میں چئیرمین عمران خان کے خطاب اور وہاں سے روانہ ہونے کے بعد بدانتظامی کی وجہ سے ایک گیٹ پر بھگدڑ مچ گئی جس سے متعدد افراد لوگوں کے نیچے آ کر کچلے گئے۔نشتر اسپتال کے ڈائریکٹر ایمرجنسی پرویز حیدر نے بتایا ہے کہ ان کے پاس سات لاشیں اور بیالیس زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق جلسہ ختم ہونے کے بعد ایک گیٹ پر بیٹھے ہوئے افراد نیچے گر گئے اور دوسرے لوگ ان کو روندتے ہوئے گزر گئے۔پی ٹی آئی کی ترجمان شیریں مزاری نے پولیس اور مقامی انتظامیہ کو ذمے دار قراردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر پولیس نے تعاون کیا ہوتا تو یہ واقعہ رونما نہ ہوتا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ مقامی انتظامیہ نے اسٹیڈیم کے دروازے بند کررکھے تھے اور بروقت نہیں کھولے جس کی وجہ سے بھگدڑ مچی ہے۔انھوں نے کہا کہ پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی اور وہ اس صورت حال کو کنٹرول کرسکتے تھے۔

لیکن ملتان کے ضلعی رابطہ افسر(ڈی سی او) زاہد گوندل نے ان کے اس مؤقف کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ جلسے کے انتظامات پی ٹی آئی نے اپنے ہاتھ میں لے رکھے تھے۔انتظامیہ اور پولیس تو جلسہ گاہ سے باہر تھی اور اس نے لوگوں کو بھگدڑ سے بچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ورنہ زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوتے۔

ملتان کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) امجد سلیمی نے بھی پی ٹی آئی کے مؤقف کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اسٹیڈیم کے پانچ گیٹ کھلے تھے۔تحقیقات میں یہ سب ثابت ہوجائے گا۔

عمران خان نے اسلام آباد میں ڈی چوک میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں ملتان میں پیش آئے الم ناک سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے بھی پولیس اور انتظامیہ کو واقعے کا ذمے دار قرار دیا ہے۔