.

کراچی : کچی شراب سے 29 افراد کی ہلاکت

ہلاکتوں کے بعد پولیس اور محکمہ ایکسائز کے 12افسر معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران گھریلو ساختہ کچّی شراب پینے سے جمعرات کو مزید آٹھ افراد دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد شراب خوری سے مرنے والوں کی تعداد انتیس ہوگئی ہے۔

کراچی میں ان ہلاکتوں کے بعد صوبہ سندھ کی حکومت نے محکمہ ایکسائز اور پولیس کے چھے چھے اعلیٰ افسروں کو معطل کردیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

منگل کو عید الاضحیٰ کے دوسرے روز کراچی کے کم آمدنی والے لوگوں کی بستیوں لانڈھی ،کورنگی اور ابراہیم حیدری میں گھریلو ساختہ کچّی شراب پینے سے پچاس سے زیادہ افراد کی حالت غیر ہوگئی تھی۔انھیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں میں ان میں سے ایک شخص دم توڑ گیا اور پھر ان کے مرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل کالج اور اسپتال کی سینیر ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا ہے کہ جمعرات کی شب تک انتیس افراد جان کی بازی ہارچکے تھے جبکہ شدید متاثرہ چوبیس افراد اسپتال میں زیر علاج تھے۔

کچی زہریلی شراب سے ہلاکتوں کے بعد صوبہ سندھ کی حکومت نے میتھانول (سپرٹ) کی فروخت پر پابندی عاید کردی ہے جبکہ جن علاقوں میں ایسی شراب تیار اور فروخت کرنے کا دھندا ہورہا تھا،وہاں تعینات محکمہ ایکسائز اور پولیس کے افسروں کو فرائض سے غفلت برتنے پر معطل کردیا ہے۔

صوبہ سندھ کے وزیر ایکسائز گیان چند نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ غیر قانونی طور پر سپرٹ بیچنے والوں کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور اس کے ذمے دار ڈیلروں کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی۔

پولیس نے زہریلی شراب فروخت کرنے اور اس سے انتیس افراد کی ہلاکتوں پر مختلف تھانوں میں تیرہ مقدمات درج کرلیے ہیں۔کراچی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے مرکزی مشتبہ ملزم کا سراغ لگا لیا ہے اور اس کے خلاف قتل کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔تاہم وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے مفرور ہوگیا ہے۔پولیس نے بدھ کو شراب تیار کرنے والی بھٹیوں پر چھاپہ مار کارروائیاں کی تھیں اور تین افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کو قانونی طور پر شراب کی فروخت کی ممانعت ہے جس کے پیش نظر کم آمدنی والے علاقوں میں جرائم پیشہ افراد خود ہی شراب تیار کرنے کا دھندا کرتے ہیں اور وہ اس کی تیاری میں گلے سڑے پھلوں کے علاوہ سپرٹ کو بھی استعمال کرتے ہیں لیکن بالعموم شراب کشید کرنے کے عمل کے دوران اس کا آمیزہ ٹھیک طور پر تیار نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہ زہرآلود بن جاتی ہے۔یوں استعمال کی صورت میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

ماہرین طب کے مطابق میتھانول ملی شراب پینے والا شخص اندھا ہوسکتا ہے،اس کا جگر ناکارہ ہوجاتا ہے اور نتیجتاً اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔تاہم پاکستان میں امیرطبقے کو بڑے ہوٹلوں میں بیش قیمت ولایتی شراب دستیاب ہوتی ہے اور وہ وہاں سے یہ شراب خرید کر لذت کام ودہن کرلیتے ہیں۔اس شراب سے بالعموم ہلاکتیں نہیں ہوتی ہیں۔

یادرہے کہ سنہ 2007ء میں کراچی میں زہریلی شراب پینے سے چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔چند ہفتے قبل صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد میں زہریلی شراب پینے سے بیس افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔