.

ملالہ اور ستیارتھی نوبل امن انعام کے حق دار

دونوں کو نوبل سرٹیفکیٹ کے ساتھ 12 لاکھ ڈالرز کی رقم ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان سے تعلق رکھنے والی نوعمر طالبہ ملالہ یوسف زئی اور بھارت میں بچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور اس سال کےنوبل امن انعام کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

ناورے کی نوبل کمیٹی نے انھیں انتہاپسندی اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے کے اعتراف میں اس عالمی اعزاز سے نوازا ہے اور کہا ہے کہ ان دونوں کی پسے ہوئے طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم کے لیے کوششیں کرنے کے اعتراف میں ملالہ یوسف زئی اور مسٹر ستیارتھی کو نوبل امن انعام کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔ان دونوں کو نوبل سرٹیفکیٹ کے ساتھ 12 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم بھی ملے گی اور یہ رقم ملالہ یوسف زئی اور کیلاش ستیارتھی میں برابر تقسیم کی جائے گی۔

ملالہ کی اس وقت عمر صرف سترہ سال ہے اور وہ اب تک نوبل امن انعام جیتنے والی شخصیات میں سب سے کم عمر طالبہ ہیں۔اس نے صرف گیارہ سال کی عمر میں پاکستان کے شمال مغربی علاقے وادی سوات میں بچیوں کی تعلیم کے لیے مہم کا آغاز کیا تھا اور ٹی وی انٹرویوز میں بچیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھائی تھی۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں نے 2009ء میں اس کے آبائی شہر مینگورہ سمیت پوری وادی سوات پر قبضہ کر لیا تھا۔انھوں نے بچوں اور بچیوں کے اسکولوں کو بموں سے اڑا دیا تھا۔معلمات اور طالبات کو ہراساں کیا اورانھیں برقع اوڑھنے پر مجبور کیا تھا۔

9 اکتوبر 2012ء کو طالبان کے مسلح افراد نے مینگورہ میں اسکول وین میں گھس کر ملالہ یوسف زئی کو گولیاں مار دی تھیں لیکن خوش قسمتی سے اس کو لگنے والی کوئی گولی جان لیوا ثابت نہیں ہوئی تھی اور پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس کو فوری طور پر شمال مغربی شہر پشاور منتقل کردیا گیا اور وہاں سے اس کو علاج کے لیے برطانیہ لے جایا گیا جہاں ملکہ الزبتھ اسپتال برمنگھم میں اس کا علاج کیا گیا۔اس کی متعدد مرتبہ سرجری کی گئی۔وہ صحت یاب ہونے کے بعد سے وہیں اپنے والدین اور دو بھائیوں کے ساتھ مقیم ہے۔

اس دوران ملالہ یوسف زئی کی مغربی ذرائع ابلاغ میں خوب پذیرائی ہوئی تھی اور اس کو انسانی حقوق کے متعدد اعزازات سے نواز گیا تھا۔ان میں یورپی پارلیمان کا سخاروف ایوارڈ بھی شامل ہے۔اس نے گذشتہ سال مارچ میں مکمل صحت یابی کے بعد اسکول جانا شروع کیا تھا۔وہ آج جمعہ کو اسکول ہی میں تھی جب اس کو بتایا گیا کہ اس نے نوبل امن انعام جیت لیا ہے۔

کیلاش ستیارتھی

بھارت سے تعلق رکھنے والے ساٹھ سالہ کیلاش ستیارتھی نوبل امن انعام جیتنے کی خبر سن کر بہت خوش ہیں اور انھوں نے اس کو بچوں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد کا ثمر قرار دیا ہے۔

بھارت کی سرکاری خبررساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق کیلاش ستیارتھی نے نوبل امن کمیٹی کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا انعام دراصل اس جدید دور میں لاکھوں بچوں کو درپیش مسائل ومشکلات کو تسلیم کرنے کا اعتراف ہے۔

وہ بھارت کے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے کے پیروکار ہیں اور انھوں نے بچوں کے استحصال اور ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر متعدد مواقع پر مختلف انداز میں پُرامن احتجاج کیے تھے۔

نوبل کمیٹی کا کہنا ہے کہ ''اس کے نزدیک یہ ایک ہندو اور ایک پاکستانی ،ایک بھارتی اور ایک پاکستانی کے لیے ایک اہم نکتہ ہے کہ ان دونوں نے بچوں کی تعلیم کے لیے اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی ہے''۔

ستیارتھی پیشے کے اعتبار سے ایک الیکٹریکل انجنئیر ہیں۔انھوں نے 1980ء کے عشرے میں بچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی غرض سے اپنے اس پیشے کو خیرباد کَہ دیا تھا۔وہ بچوں سے جبری مشقت اور انھیں غلامی سے نجات دلانے کے لیے عالمی تحریک میں شامل ہوگئے تھے۔انھوں نے ہزاروں بچوں کو غلامی سے نجات دلائی تھی اور ان کی تعلیم اور بحالی کے لیے ایک کامیاب ماڈل تیار کیا تھا۔

واضح رہے کہ طب ،کیمیا ،طبیعیات اور ادب کے شعبوں میں اسی ہفتے نوبل انعامات کا اعلان کیا جاچکا ہے اور اقتصادیات میں نوبل انعام کا اعلان آیندہ سوموار کو کیا جائے گا۔یہ تمام انعامات 10 دسمبر کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک تقریب میں نوبل انعام کے بانی الفریڈ نوبل کی برسی کے موقع پر دیے جائیں گے۔ان کا 1896ء میں انتقال ہوا تھا۔ان کی موت کے بعد 1901ء میں پہلی مرتبہ نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔