.

سرحدی کشیدگی، پاکستانی سفیر کی ایرانی دفتر خارجہ طلبی

بلوچستان میں اغوا کے بعد آٹھ مزدور قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی وزارتِ خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر فائرنگ کے واقعات پر تبادلہ خیال کے لیے پاکستانی سفیر کو طلب کیا ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’اِیرنا‘ نے ایرانی وزارت خارجہ کے دفتر کے حوالے سے بتایا ہے پاکستان کے سفیر نور محمد جدمانی کو سنیچر 18 اکتوبر کی شام ’دونوں ممالک کی درمیانی سرحد پر ہونے والے ان واقعات کی وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا جن کے نتیجے میں ایران کے کئی سرحدی محافظ ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔‘

وزارت خارجہ کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا کے امور کے سربراہ رسول اسلامی نے پاکستانی سفیر سے کہا کہ ’ ہم یہ بات قبول نہیں کر سکتے کہ پاکستان سے دہشتگردوں اور ڈاکوؤں کا ایک گروہ ہمارے علاقے میں گھس آئے اور ہمارے سرحدی محافظوں کو فائرنگ کر کے شہید کر دے۔‘

تفصیلات کے مطابق سینیئر ایرانی افسر نے پاکستانی سفیر سے ’یہ مطالبہ بھی کیا اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور تمام ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کا کوئی واقع نہ ہو۔‘

رسول اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ ’اس قسم کے مسائل سے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی فضا کو خراب نہیں ہونے دینا چاہیے، اس لیے دونوں ممالک کے افسران کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مسائل کا کوئی حل نکالیں اور دونوں ممالک کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنائیں۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ جمعرات کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایران کی سیکورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان کا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔

بلوچستان میں مزدور قتل

ادھر پاکستان کے بدامنی کے شکار صوبہ بلوچستان میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے نو افراد کو گولی مار کر ہلاک کرنے کی اطلاعات ہیں۔ دو مقامی باشندوں کو بحفاظت رہا کر دیا گیا۔ تمام ہلاک شدگان صوبہ پنجاب سے وہاں گئے ہوئے مزدور تھے۔

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے میں ان افراد کے قتل کا واقعہ ایک ایسے علاقے میں پیش آیا، جہاں مسلح بلوچ قوم پسند اکثر خونریز کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

ایک اعلیٰ پولیس اہلکار بشیر بروہی نامی نے غیر ملکی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اس واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے صوبے میں پولٹری کی صنعت میں کام کرنے والے 11 افراد کو اغواء کر لیا تھا۔ ان میں سے دو مقامی بلوچ مزدور تھے جبکہ باقی نو کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا اور وہ آبادکاروں کے طور پر وہاں محنت مزدوری کے لیے گئے تھے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان میں سے دونوں مقامی بلوچ مزدوروں کو ان کے اغوا کاروں نے رہا کر دیا جبکہ نو پنجابی کارکنوں کو گولی مار دی گئی۔ یہ بتائے بغیر کہ اجتماعی قتل کا یہ واقعہ بلوچستان میں کہاں پیش آیا، بشیر بروہی نے کہا کہ اس فائرنگ میں مسلح افراد کے ہاتھوں آٹھ مزدور موقع پر ہی مارے گئے جبکہ زخمی ہونے والا نواں مز‍دور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

بلوچستان پاکستان کا وسیع و عریض رقبے والا ایسا صوبہ ہے، جہاں معدنیات اور قدرتی گیس کے بہت زیادہ ذخائر پائے جاتے ہیں لیکن جس کی آبادی بہت کم ہے۔ اس صوبے میں بلوچ قوم پسند مقامی قدرتی وسائل سے ہونے والی آمدنی میں اپنے لیے زیادہ بڑے حصے کا مطالبہ کرتے ہیں اور قوم پسند بلوچوں کی چند عسکریت پسند تنظیموں نے وہاں صوبے کی مکمل خود مختاری کی خونریز مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔