.

اے آر وائی کی نشریات 15 روز کے لیے معطل

عدلیہ مخالف پروگرام پر پیمرا کا اقدام ،ایک کروڑ روپے جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے عدالتِ عالیہ لاہور کے حکم کی پاسداری کرتے ہوئے نجی ٹیلی ویژن چینل اے آر وائی نیوز پر پندرہ روز کے لیے پابندی عاید کردی ہے اور اس پر عدلیہ مخالف پروگرام نشر کرنے پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عاید کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز چینل پر پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اور اس کے معزز ججوں کی توہین پر مبنی پروگرام پیش کیے جاتے رہے ہیں۔اس کے ایک ٹاک شو ''کھرا سچ'' کے میزبان عدلیہ مخالف پروگرام پیش کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ٹی وی پر وہ بالعموم اپنی گفتگو میں عام اخلاقی آداب کو بھی بالائے طاق رکھ دیا کرتے تھے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اور ارباب اقتدار وسیاست کو بلا لحاظ عہدہ اور عمر اپنے پروگراموں میں ''تُو اور تُم'' کَہ کر مخاطب ہوتے رہے ہیں۔

عدالتِ عالیہ لاہور نے ان کے عدلیہ کے خلاف ایک ٹاک شو کی بنیاد پر ہی پیمرا کو اے آروائی کا پندرہ روز کے لیے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کے بعد پیمرا کا اسلام آباد میں ایک خصوصی اجلاس طلب کیا گیا جس میں مذکورہ ٹاک شو کے جائزے کے بعد پیمرا حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ پیمرا کے ایکٹ اور اس کے قواعد وضوابط کے منافی ہے۔

برقی نشریاتی اداروں کی نشریات کو ریگولیٹ کرنے کے ذمے دار ادارے نے ہفتے کے روز مبشر لقمان اور ان کے پروگرام کھرا سچ پر پابندی عاید کردی تھی۔عدالت نے مبشر لقمان پر کسی اور ٹی وی پروگرام میں بطور مہمان شریک ہونے پر بھی پابندی عاید کردی ہے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے گذشتہ جمعے کے روز اے آر وائی نیوز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سلمان اقبال ،مبشر لقمان،پروگرام کے پروڈیوسر اور ایک نجی فرم کے مالک عاصم ملک کے خلاف طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے پر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ عدالت عالیہ کے جج سید مظاہرعلی اکبر نقوی نے سوموار کو یہ احکامات ان مدعاعلیہان کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جاری کیے ہیں۔

اے آر وائی نے نجی فرم فیوچر کنسرن کے مالک عاصم ملک کا ایک انٹرویو نشر کیا تھا۔اس میں عدلیہ کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔عدالت نے اٹارنی جنرل ،صوبہ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل ،وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل اور لاہور کے ضلعی رابطی افسر (ڈی سی او) کو 21 اکتوبر منگل کو طلب کر لیا ہے۔اب لاہور ہائی کورٹ کا پانچ رکنی بنچ مبشر لقمان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کرے گا۔