.

پاکستان: قائد حزب اختلاف توہین رسالت کے قانون کی زد میں

لفظ "مہاجر" کے سیاسی استعمال اور متحدہ کی اساس پر سوالات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی سیاست میں پیپپلز پارٹی کی جنم جنم کی ساتھی کے انداز میں سیاست کرنے والی ایک باضابطہ سیکولر جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کرانے کے لیے کراچی کی ایک عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔ عدالت نے اندراج مقدمہ کا حکم دے دیا تو پاکستان میں کسی اعلیٰ سیاسی شخصیت کے خلاف یہ توہین رسالت ایکٹ 295 سی کے تحت یہ پہلا مقدمہ ہو گا۔ اس سے قبل پولیس نے ایسا مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

قانون کی اس دفعہ 295 سی کے بارے میں پاکستان اور پاکستان سے باہر بہت شور ہوتا رہا لیکن اس کے تحت ملنے والی سزا پر عمل در آمد کم ہی ہو سکا ہے۔ تازہ ترین فیصلہ ایک ستر سالہ برطانوی شہری محمد اصغر کے خلاف آیا ہے جسے نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے پر اسی سال سزا سنائی گئی ہے۔

پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ ماتحت عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی توہینِ رسالت کی سزاؤں کو نامکمل شواہد کی بنیاد پر عام طور پر رد کرتی رہی ہیں۔ تاہم زیادہ تر مقدمات مسیحیوں کے خلاف سامنے آئے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایک سید خاندان کے فرد اور سیاسی اعتبار سے با اثر شخصیت پر اس کی برسہا برس تک حلیف رہنے والی جماعت نے الزام لگایا ہے۔

سید خورشید شاہ پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے لفظ 'مہاجر' کی میڈیا سے گفتگو کے دوران توہین کی ہے۔ لیکن اس بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا گیا کہ ان مبینہ توہین آمیز الفاظ کو آگے پہنچانے والے میڈیا کو بھی شامل تفتیش کیا جا رہا ہے یا نہیں۔

نیز ماضی میں اس قانون پر تنقید کرنے والی شخصیات کے بارے میں بھی متحدہ کے قائدین اور وکیل خاموش ہیں کہ وہ توہین رسالت کے قانون کے خلاف واویلا کرنے والوں کو بھی عدالتی کٹہرے میں لانے کے حق میں ہیں یا نہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ متحدہ کی اس مقدمے کی کوشش کا انجام بھی طاہر القادری کے دھرنے جیسا ہو سکتا ہے کہ اچانک درخواست واپس لے لی جائے۔

متحدہ نے انہی دنوں سندھ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں سے اس وجہ سے علاحدگی اختیار کر لی ہے کہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین نے متحدہ کے قائد کی توہین کی ہے۔ پیپلزپارٹی سے اتحاد توڑنا اور پھر رشتہ جوڑنا متحدہ کا ماضی میں عمومی وطیرہ رہا ہے۔

دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ فریق مخالف اس امر کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے کہ لفظ مہاجر کو آئندہ سیاست کاری اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور ممکن ہو تو اس کے سیاسی استعمال پر پابندی لگائی جائے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ کے خلاف کسی عدالتی فیصلے کے بعد اندراج مقدمہ کی صورت میں عدالتیں اس مقدمے کا کب اور کیا فیصلہ کرتی ہیں اس سے قطع نظر یہ طے ہے کہ متحدہ کی یہ عدالتی کوشش خود متحدہ کو کئی سوالات کے سامنے لا کھڑا کر سکتی ہے۔

البتہ ملک کے اندر اور باہر اس توہین رسالت ایکٹ کو متنازعہ بنانے کے لے بھی بعض حلقے اس موقع کو غنیمت جان کر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس طرح نظریاتی اعتبار سے خود کو سیکولر قرار کرنے والی متحدہ بالواسطہ جہاں پیپلز پارٹی کو زیر دباو لانے میں کامیاب ہو نہ ہو اس قانون کے خلاف ایک نئی بحث شروع کرانے کا ذریعہ بنے گی۔

خود متحدہ کو بھی اپنے بارے میں ان سوالوں کا جواب دینا ہو گا کہ وہ بطور سیکولر جماعت کی شاخت رکھنے کے باوجود اس اسلامی قانون کا سہارا کیوں لے رہی ہے۔ واضح رہے متحدہ قومی موومنٹ جس طرح کراچی سے آنے والی آمدنی کا کریڈٹ اپنے لیے خالص کرتی ہے، لفظ مہاجر کے جملہ حقوق بھی اپنے نام رکھنے کی کوشش میں رہتی ہے، اس کی سیاست کے یہی دو بنیادی ستون ہیں۔

لیکن عدالت میں مقدمہ چلنے کا امکان پیدا ہونے کی صورت میں اسے عدالت میں جواب دینا پڑ سکتا ہے کہ اس مقدس لفظ ''مہاجر'' کو متحدہ نے اپنے نام سے ہٹا کر کیا اس کی توہین نہیں کی ہے؟

ماہرین سیاست کے مطابق اگر متحدہ نے لفظ 'مہاجر' کو نبی آخرالزمان صلی اللہ کے سفر ہجرت سے جوڑا تو اسے پاکستان کی تخلیق کے اساس بننے والے نظریہ پاکستان کو تسلیم کرنا ہو گا اور اس سے اس کی سیکولر سیاست چیلنج ہو گی کہ ہجرت نبوی کی سنت سے منسوب ریاست کو اسلام کے بجائے سیکولر ازم سے جوڑنا بجائے خود توہین و انحراف کا اظہار قرار دیا جانے لگے گا۔

لفظ 'مہاجر' کی بنیاد پر سیاست کے ذریعے 25 سال سے زائد عرصہ تک ایوان اقتدار میں موجود رہنے کے باوجود 11 جون 1978 سے اے پی ایم ایس او کے قیام اور 18 مارچ 1984 تک مہاجر قومی مومنٹ کی تشکیل تک لفظ ہجرت کے اس تقدس کا کا کم ہی ذکر کیا ہے۔ جس تقدس کو اب کندھوں پر اٹھا کر متحدہ اب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔

لندن میں پچھلی دو دہائیوں سے مقیم الطاف حسین کی زیر قیادت سیاست کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ نے 1997 سے اپنے نام سے بھی 'مہاجر' کا لفظ ختم کر دیا ہے لیکن 'مہاجر' کے نام پر سیاست سے دستبردار نہیں ہوئی ہے۔

پچھلے عام انتخابات کے دوران متحدہ مجلس عمل اور جمعیت علمائے اسلام کے انتخابی نشان پر اعترض اٹھایا جاتا رہا ہے کہ انتخابی نشان کتاب سے قرآن مجید کا تاثر ابھرتا ہے اس لیے یہ نشان ختم کیا جائے ۔ یا کم از کم اس نشان کو اس طرح طبع کیا جائے کہ قرآن کا تقدس ووٹ کے لیے استعمال نہ ہو سکے۔

اگر قائد حزب اختلاف کے خلاف مقدمہ درج ہو جاتا ہے تو یہ بھی امکان بڑھ جائے گا کہ اب اگلے الیکشن سے پہلے یہ اعتراض لفظ 'مہاجر' پر بھی اٹھنے لگے۔ متحدہ نے خورشید شاہ کو قائد حزب اختلاف کے منصب سے ہٹانے کے بھی کوششیں شروع کر دی ہیں۔