.

خیبرایجنسی میں فضائی حملے ،20 جنگجو ہلاک

پاک فوج کے لڑاکاطیاروں کی مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی نے افغان سرحد کے نزدیک واقع وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے خیبرایجنسی میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر اہدافی فضائی بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں بیس جنگجو ہلاک اور ان کے پانچ ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے جمعرات کو خیبر ایجنسی میں اکاخیل ، تیراہ اور دوسرے علاقوں میں مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔اس علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے علاوہ ،انصارالاسلام اور لشکراسلام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے پناہ لے رکھی ہے۔

خیبرایجنسی کے علاقے سپن قمر میں بدھ کو ایک جھڑپ میں آٹھ فوجی شہید ہوگئے تھے اور پاک فوج کی بمباری میں اکیس مشتبہ دہشت گرد مارے گئے تھے۔آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق خیبر ایجنسی میں مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران اب تک چھیاسٹھ جنگجو اور بارہ فوجی زخمی ہوئے ہیں جبکہ طالبان کے اہم کمانڈروں نے حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

پاکستان آرمی نے اکتوبر کے آغاز میں آپریشن خیبر ون (خیبر اول) کے نام سے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔حال ہی میں تحصیل باڑا کے علاقے سپاہ میں سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان ایک جھڑپ بھی ہوئی تھی۔اس فوجی کارروائی کا مقصد باڑا سے وادی تیراہ تک کے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرناہے۔اس کے بعد خیبرایجنسی میں دوسرے مرحلے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔

پاک فوج کے شمالی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان کے خلاف جون سے جاری آپریشن ضربِ عضب کے بعد مشتبہ جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد وہاں سے راہ فرار اختیار کرچکی ہے۔انھوں نے خیبرایجنسی اور دوسرے علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں بنا لی ہیں اور وہیں سے وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور اس کے نواحی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر بم حملے کررہے ہیں یا انھیں فائرنگ میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

خیبرایجنسی پشاور سے ملحق ہے اور افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کے لیے سامان رسد بھی یہیں سے ٹرکوں کے ذریعے طورخم کی سرحد کی جانب لے جایا جاتا ہے اور یہیں سے شمال سے جنوب روٹ کے ذریعے تمام سات قبائلی ایجنسیوں کو ملانے والی شاہراہ گذرتی ہے۔اس علاقے میں ٹی ٹی پی کے علاوہ لشکر اسلام اور انصارالاسلام کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ ان گروپوں کی آپس میں بھی لڑائی ہوتی رہتی ہے۔