.

واہگہ بارڈر پر خودکش دھماکا، 55 جاں بحق

جنداللہ نے شہریوں پر خودکش حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے نواح میں واقع سرحدی علاقے واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب کے اختتام پر اتوار کی شام خودکش بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں پچپن افراد جاں بحق اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) مشتاق سکھیرا نے بتایا ہے کہ یہ دھماکا ایک خودکش حملے کا نتیجہ ہے اور حملہ آور نے پیراملٹری فوجیوں کے ایک چیک پوائنٹ کے نزدیک واقع ایک ریستوراں کے باہر خود کو دھماکے سے اڑایاہے۔اس وقت لوگوں کی بڑی تعداد واہگہ بارڈر پر روزانہ ہونے والی پرچم اتارنے کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔انھوں نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کی عمر انیس سال تھی اور اس کے اعضاء مل گئے ہیں۔

واہگہ بارڈر کراسنگ کے نزدیک ہی واقع گھرکی اسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر خرم نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کے پاس اڑتالیس لاشیں اور ایک سو زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔مرنے والوں میں دس خواتین اور سات بچے بھی شامل ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق خودکش بم دھماکے میں ایک ہی خاندان کے آٹھ اور ایک خاندان پانچ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل رینجرز پنجاب طاہرخان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پرچم اتارنے کی تقریب کے سلسلے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور خودکش حملہ آور نے پریڈ گراؤنڈ سے واپس آنے والے لوگوں کے درمیان چیک پوائنٹ پر دھماکا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حملہ آور پریڈ گراؤنڈ تک پہنچ جاتا تو اس سے زیادہ جانی نقصان کا اندیشہ تھا۔انھوں نے بتایا کہ بم دھماکے میں رینجرز کے تین اہلکار جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔وہ حملے کا نشانہ بننے والے سکیورٹی چیک پوائنٹ پر تعینات تھے۔

دھماکے کے فوری بعد رینجرز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور لاہور کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں نزدیک واقع متعدد دکانیں اورعمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور اس سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم جنداللہ نے واہگہ بارڈر پر اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے اس گروپ کے خودساختہ ترجمان احمد مروت نے بعض صحافیوں کو ٹیلی فون کے ذریعے بتایا ہے کہ یہ خودکش بم حملہ شمالی وزیرستان میں پاکستان آرمی کے جاری آپریشن ضرب عضب کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

جنداللہ ہی نے 23 اکتوبر کو بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے میں دو کارکن جاں بحق ہوگئے تھے۔تاہم مولانا فضل الرحمان محفوظ رہے تھے۔اسی گروپ نے 22 ستمبر 2013ء کو صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مسیحی برادری کے گرجا گھر پر خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس بم دھماکے میں ایک سو ستائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ واہگہ پاکستان کے شہر لاہور اور بھارت کے شہر امرتسر کے درمیان واقع واحد زمینی سرحدی گذرگاہ ہے اوردونوں ممالک کے درمیان یہاں سے سڑک اور ٹرین کے راستے آمد ورفت ہوتی ہے۔واہگہ بارڈر پر روزانہ شام کو پاکستان اور بھارت کے قومی پرچم اتارنے کی تقریب منعقد ہوتی ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں شہری شرکت کرتے ہیں اور آج اتوار کو چھٹی کی وجہ سے چھے سے سات ہزار افراد موجود تھے۔اس خودکش بم دھماکے کے بعد دونوں ممالک نے تین دن کے لیے پرچم اتارنے کی تقریب منسوخ کردی ہے۔